مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 181

مشعل راه جلد سوم 181 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:- ایک غلط رجحان کی بر وقت اصلاح سب سے پہلی بات تو میں یہ کہنی چاہتا ہوں جس کا مجھے ابھی خیال آیا ہے کہ اگر چہ آپ کا جوان خون ہے اور جوان خون میں لازماً جوش اور ولولہ پایا جاتا ہے اور فلک شگاف نعرے لگانے کو دل بھی چاہتا ہے لیکن نئے نئے نعرے نہ ایجاد کیا کریں مثلاً ابھی ایک نعرہ لگایا گیا مثیل مصلح موعود‘ میں تو ایک عاجز انسان ہوں۔یہ اللہ کا کام ہے کہ کسی کو کسی کا مثیل بنائے یا نہ بنائے۔انسان کا نہ تو یہ مقام ہے کہ وہ اپنی طرف سے ایسی باتیں بنائے نہ اس کے کہنے کی کوئی قدر و قیمت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کے دیئے ہوئے القابات اگر شروع ہو جائیں تو ان کی کوئی حد ہی نہیں رہتی۔ہندوستان میں پرانے زمانے میں جب نوابی قائم تھی تو نوابوں کو بہت بڑے بڑے القابات دیئے جاتے تھے۔بے چارے دو کوڑی کی ریاست کے نواب ہوتے تھے اور پورا صفحہ ان کے نام کے ساتھ القابوں کا لگ جایا کرتا تھا۔انسان کے دیئے ہوئے القاب کی قیمت بھی کوئی نہیں اور نہ صرف یہ کہ اس کی مثبت قیمت نہیں بلکہ اس کی منفی قیمت ہے۔اس سے قوموں کے رجمان بگڑ جاتے ہیں۔ان میں خود پسندی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ وہ مقام آجاتا ہے کہ پیر تو نہیں لیکن مرید سے خوب اڑاتے ہیں۔میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ کے اخلاق کی گہری نظر سے نگرانی کروں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس منصب پر فائز فرمایا ہے اس لئے پہلی نصیحت تو میں یہ کرتا ہوں کہ جذبات کا مناسب اظہار تو بہر حال جائز ہے اس سے آپ کو کوئی روک نہیں سکتا لیکن وہاں تک رہیں جہاں تک آپ کا دائرہ کار ہے اس سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کیا کریں۔ہاں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ خدمت کی توفیق بخشے۔یہ ہے اصل محبت ، نہ کہ نعرہ بازی۔