مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 14

مشعل راه جلد سوم 14 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی عبادت ہی میں انسان کی عزت ہے۔اسی میں اس کا وقار ہے۔بھلا اپنے رب کے حضور جھکنے میں شرم والی کون سی بات ہے۔لوگ دنیا والوں کے حضور جھکتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ اپنے دنیوی کام کے لئے چھوٹے چھوٹے اہل کاروں مثلاً پٹواریوں اور تھانیداروں کے سامنے جھک جاتے ہیں۔بعض دفعہ ادنی ادنیٰ چیزوں کے لئے لوگ اپنے دشمن کو بھی باپ بنا لیتے ہیں لیکن احکم الحاکمین خدا کے حضور شرمانے لگ جاتے ہیں یہ انسانی کمزوری اور محض جھوٹا تصور ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔اسی کا نام شرک ہے۔اسی سے شرک کے مختلف پہلو آغاز پذیر ہوتے ہیں۔میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے اور ذاتی طور پر دیکھا ہے کہ عبادت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی کوئی ذلت نہیں آتی بلکہ اس سے ہمیشہ انسانی وقار بڑھتا ہے۔میں نے ایک واقعہ پہلے لکھا بھی ہے۔مجھے وہ لمحہ بہت پیارا لگتا ہے جو ایک مرتبہ لندن میں New Year's Day کے موقع پر پیش آیا یعنی اگلے دن نیا سال چڑھنے والا تھا اور عید کا سماں تھا۔رات کے بارہ بجے سارے لوگ ٹرائفلگر سکوائر میں اکٹھے ہو کر دنیا جہان کی بے حیائیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں کیونکہ جب رات کے بارہ بجتے ہیں تو پھر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی تہذیبی روک نہیں۔کوئی مذہبی روک نہیں۔ہر قسم کی آزادی ہے۔اس وقت اتفاق سے وہ رات مجھے بوسٹن اسٹیشن پر لے آئی۔مجھے خیال آیا کہ جیسا کہ ہر احمدی کرتا ہے اس میں میرا کوئی خاص الگ مقام نہیں تھا۔اکثر احمدی اللہ کے فضل سے ہر سال کا نیادن اس طرح شروع کرتے ہیں کہ رات کے بارہ بجے عبادت کرتے ہیں۔مجھے بھی موقع ملا۔میں بھی وہاں کھڑا ہو گیا۔اخبار کے کاغذ بچھائے اور دو نفل پڑھنے لگا۔کچھ دیر کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی شخص میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ہے اور پھر نماز بھی میں نے ختم نہیں کی تھی کہ مجھے سکیوں کی آواز آئی۔چنانچہ نماز سے فارغ ہو کے میں نے دیکھا کہ وہ ایک بوڑھا انگریز ہے جو بچوں کی طرح پلک پلک کر رورہا تھا۔میں گھبرا گیا۔میں نے کہا پتہ نہیں یہ سمجھا ہے میں پاگل ہوں اس لئے شائد بے چارہ میری ہمدردی میں رورہا ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے تو اس نے کہا مجھے کچھ نہیں ہوا میری قوم کو کچھ ہو گیا ہے۔ساری قوم اس وقت نئے سال کی خوشی میں بے حیائی میں مصروف ہے اور ایک آدمی ایسا ہے جو اپنے رب کو یاد کر رہا ہے اس چیز نے اور اس مواز نے نے میرے دل پر اس قدر اثر کیا ہے کہ میں برداشت نہیں کر سکا۔چنانچہ وہ بار بار کہتا تھا۔God bless you۔God bless you۔God bless you۔God bless you۔پس حقیقت یہ ہے کہ اگر ساری دنیا بھی مذاق اڑائے تب بھی ایک احمدی نوجوان کو کوڑی کی پرواہ نہیں