مشعل راہ جلد سوم — Page 141
141 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم بیشتر کا لفظ کمزور ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان کے ہر قسم کے حقوق مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ کے تابع ادا ہوتے ہیں۔اس کو عبادت کے بعد رکھا ہے اور یہ ترتیب بتا رہی ہے کہ در اصل عبادت ہی کے نتیجے میں بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا ہوتی ہے۔پس جہاں تک اعمال کا تعلق ہے مذہب کا خلاصہ عبادت پر آکر ختم ہو جاتا ہے۔غیب کا معاملہ تو ایمانیات سے تعلق رکھتا ہے اور ایمان نہ ہو تو عبادت کی توفیق بھی نہیں مل سکتی۔یہ درست ہے۔لیکن جہاں تک اعمال کا تعلق ہے ان کا خلاصہ نماز ہے۔نماز قائم ہو تو حقوق اللہ بھی ادا ہوں گے اور حقوق العباد بھی ادا ہوں گے۔لیکن اگر یہ نہ رہے تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔تقویٰ کا خلاصہ بھی نماز بیان فرمایا گیا ہے۔تقوی کی جو تعریف بیان فرمائی اس کا خلاصہ اگر نماز ہے تو متقیوں کی زندگی کا خلاصہ بھی نماز ہی بنتا ہے۔اس لئے عبادت مومن کی زندگی اور اس کی جان ہے اور مذہب کے فلسفے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان اپنے رب سے سچا تعلق عبادت کے ذریعے قائم کرے۔اس پہلو سے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، کمزوریاں بھی آتی چلی جاتی ہیں۔ایک دفعہ آپ زور لگاتے اور کوشش کرتے ہیں تو نماز میں حاضری کا معیار بڑھ جاتا ہے۔پھر کچھ عرصے کے بعد نماز گرنے لگتی ہے۔پھر زور لگاتے ہیں تو معیار بڑھنے لگتا ہے اور بعض دنوں میں جب زیادہ توجہ دی جاتی ہے تو خدا کے فضل سے بیوت الذکر کے متعلق احساس ہوتا ہے کہ چھوٹی رہ گئی ہیں۔لیکن اس کے بعد پھر خالی برتن کی طرح خلخل کرتے ہوئے چند نمازی رہ جاتے ہیں اور بیوت الذکر قریباً خالی۔اس لئے ہمیں اپنے نظام میں لازماًیہ بات داخل کرنی پڑے گی کہ سارا نظام بیدار ہو کر وقتاً فوقتاً نمازوں کی طرف توجہ دلائے ، ساری جماعت کو جھنجھوڑ دے اور بیدار کر دے اور اسے بتائے کہ نمازوں کے بغیر تم زندہ نہیں ہو اور نہ ہی زندہ رہ سکتے ہو۔تمہیں لازماً عبادتوں کو قائم کرنا پڑے گا ورنہ تمہاری ساری کوششیں بیکار، بے معنی اور لغو ہوں گی۔نماز کی حفاظت اور ادارے یہی وجہ ہے کہ میں نے آغاز خلافت ہی میں آج سے تقریباً چھ ماہ پہلے تمام انجمنوں کو جن میں مرکزی انجمنیں بھی شامل تھیں اور ذیلی انجمنیں بھی شامل تھیں، اکٹھا کر کے جو بنیادی ہدایت دی وہ یہ تھی کہ نماز کی حفاظت، جس کے لئے جماعت احمدیہ قائم کی گئی ہے، ہمارا اولین فرض ہے۔ہمارے سارے نظام اس