مشعل راہ جلد سوم — Page 90
مشعل راه جلد سوم 90 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ گزار ہوتے ہیں وہ بھی اچھی بات کے نتیجہ میں زیادہ فضل عطا کیا کرتے ہیں۔”زہ والا واقعہ آپ میں سے اکثر نے سنا ہوگا۔بار بار بھی سناؤ تو اس کا مزہ ختم نہیں ہوتا۔کہتے ہیں ایک بادشاہ سیر کے لئے نکلا۔اس نے اپنے وزیر کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ جب بھی میں زہ کہوں کسی اچھی بات پر ، تو تم اشرفیوں کی ایک تھیلی عطا کر دیا کرنا۔چنانچہ اشرفیوں کی کئی چھوٹی چھوٹی تھیلیاں ساتھ ہوا کرتی تھیں اس حال میں بادشاہ سیر کے لئے نکلتے تھے۔ایک کسان بوڑھی عمر کا بیچارا استر اسی سال کا ، وہ کھجور کی گٹھلیاں لگا رہا تھا۔بادشاہ نے اس سے تعجب سے پوچھا کہ اے کسان ! تم تو بوڑھے ہو گئے ہو قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے ہو۔یہ کھجور کیوں لگا رہے ہو۔کیوں بریکار محنت کر رہے ہو۔اس نے کہا ہمارے باپ دادا نے کھجور لگائے تھے ہم نے ان کا پھل کھایا اب ہم محنت کریں گے تو اگلے اس کا پھل پائیں گے۔بادشاہ کو یہ بات ایسی پیاری لگی کہ اس کے منہ سے زہ نکل گیا۔اسی وقت وزیر نے اشرفیوں کی ایک تھیلی اسے پکڑا دی۔اس کسان نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ تو کہتے تھے کہ تمہاری محنت کو پھل نہیں لگے گا۔میری محنت کو تو ابھی پھل لگ گیا۔بادشاہ کے منہ سے پھر بے اختیار نکل گیا زہ۔اس وزیر نے دوسری تھیلی نکالی اور اس کو پکڑا دی۔اس نے کہا بادشاہ سلامت مجھے اور بھی تعجب ہے کہ کھجور تو سال میں ایک دفعہ پھل دیتے ہیں۔میرے کھجور نے تو دو دفعہ پھل دے دیا ہے۔بادشاہ نے کہا زہ۔اور وزیر نے ایک اور تھلی پکڑائی۔تب بادشاہ نے کہا۔بھا گو یہاں سے یہ بوڑھا تو ہمارے خزانے لوٹ لے گا۔آپ بھی اسی طرح شکرانہ ادا کریں کہ آسمان یہ ترانے گانے لگے۔لَئِنُ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ لَئِنُ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمُ اے میرے بندو ! تم شکر سے میرے حضور جھک رہے ہو میں تمہیں بڑھاتا چلا جاؤں گا۔اور میرے خزانے اس بادشاہ کے خزانوں کی طرح نہیں ہیں۔وہ نہ ختم ہونے والے خزانے ہیں۔تم کو ٹتے چلے جاؤ۔میں عطا کرتا چلا جاؤں گا۔خدا کرے کہ ہم ایسے ہی نظارے دیکھیں۔“ اجتماعی دعا کے بعد حضور نے فرمایا:- اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں آپ کو واپس لے کر جائے۔اپنے فضلوں کا سایہ آپ کے سروں پر رکھے۔اپنی محبت آپ کو عطا کرے۔اس محبت کو وفا بخشے۔آپ اس کے وفادار اور محبت کرنے والے بن جائیں۔وہ وفاؤں کو قبول کرنے والا مہربان محبوب ثابت ہو۔ہمیشہ خدا کے فضلوں کا سایہ آپ کے سر پر رہے۔آپ کو خدمت دین کی پہلے سے بڑھ کر ہمیشہ ہر آن بڑھ کر اور بھی بڑھ کر تو فیق عطا ہوتی رہے۔آمین (ماہنامہ خالد جنوری 1983 صفحہ 19 تا 38 )