مشعل راہ جلد سوم — Page 89
89 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم کہ کوئی آدمی پر جھاڑ کر نکل رہا ہو کہیں سے۔تو میں نے دیکھا کہ وہ بڑی گھبرا کر اوپر سے نیچے اتری ہے۔کوئی بات تو اس نے نہیں کی۔مگر جب میں نے پتہ کیا اپنی بیوی سے تو اس نے کہا وہ پریس کی نمائندہ تھی مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔یہ واقعہ ہوا ہے میرے ساتھ۔پس اللہ تعالیٰ ہر ایک کی مددفرما رہا تھا۔یعنی سادہ آدمی کی بھی مددفرماتا تھا اور ہوشیار کی بھی مددفرماتا تھا۔سارا عرصہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور سہارے کے طفیل یہ سفر گز را ہے ورنہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔جہاں یہ پریس کی نمائندہ اپنی کوشش کر رہی تھی کہ کسی طرح ( دین حق ) کا اثر مٹ جائے وہاں دو طالب علم بھی بیٹھے ہوئے تھے اور ایک پادری بھی بیٹھا ہوا تھا۔وہ یونیورسٹی کے سینئر طالب علم تھے۔اور ایک اچھا چوٹی کا پادری وہاں موجود تھا۔جب ہم فارغ ہوئے ہیں تو ہمارے دوستوں نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ وہ یونیورسٹی کے دونوں لڑکے اپنے پادری کے پیچھے پڑ گئے کہ تم نے ہمیں ساری عمر دھوکے میں رکھا ہے۔اصل عیسائیت کا تو ان کو پتہ ہے۔تمہیں تو کچھ پتہ ہی نہیں۔اور ( دین حق ) اتنا خوبصورت مذہب۔اس کے متعلق آج ہمیں سمجھ آئی ہے۔وہ ان سے بحث کرتا تھا۔وہ اس کو جواب دیتے تھے اور اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے کہ تم نے اب تک ہم سے کیا ظلم برقرار رکھا تھا۔بالکل جھوٹ بولتے رہے ہو۔( دین حق ) سچا مذہب ہے۔اس نے آخر شرم کے مارے ان سے کہا کہ مجھے تم چھوڑو۔مجھے جلدی ہے۔انہوں نے کہا جلدی ولدی کوئی نہیں۔ہم نے تمہیں نہیں چھوڑنا۔اس نے کہا اچھا پھر یہاں سے تو ہٹ جاؤ یہ لوگ دیکھ رہے ہیں۔وہ چل کر دور جانے لگا۔انہوں نے اسے گیٹ پر پھر پکڑ لیا۔نہیں جانے دیا۔گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ اس کے پیچھے پڑے رہے۔پس یہ اللہ کے فرشتے تھے جو یہ کام کر رہے تھے۔اس میں کسی انسانی طاقت کا بس نہیں تھا۔ایسی شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش نازل ہوئی ہے کہ اس پر جو میں نے اپنے پیغام میں لکھا وہ بالکل صحیح تھا۔حقیقت یہ ہے کہ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ ساری دنیا میں احمدی خدا کی راہ میں آنسو بہا رہے ہیں۔ہر قطرہ جوگرتا ہے بھاپ بن کر آسمان پر اٹھتا ہے وہ فضلوں کی بارش بن کر دوبارہ ہم پر برسنے لگتا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمتوں کے یہ دور برقرار رکھے۔ایک سے ایک اگلی منزل کی طرف ہم بڑھتے رہیں۔اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور شکر کا حق ادا کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے :- لَئِنْ شَكَرُ تُم لَا زِيدَنَّكُمْ (ابراہیم : 8) جب تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور بھی بڑھاؤں گا۔وہ واقعہ تو آپ نے سنا ہوا ہے کہ جو بادشاہ بھی شکر