مشعل راہ جلد سوم — Page 88
مشعل راه جلد سوم 88 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ہم اب تک دھوکے میں رہے۔اوسلو میں یہ واقعہ ہوا۔وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس کے جو لوگ تھے وہ شہر کے بڑے اچھے معززین تھے۔ان کے ایک گروہ کے اندر بڑی دلچسپ ( دعوۃ الی اللہ ) کا موقع مل گیا۔اس سے پہلے صبح پر یس کا نفرنس تھی وہاں ایک عیسائی بہت ہی متعصب عورت نمائندہ آئی ہوئی تھی۔اس کی کچھ پیش نہیں جاتی تھی۔اس بیچاری نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح نیک اثر زائل ہو جائے لیکن نہیں ہو سکا۔اس نے پھر یہ سوچا کہ میں دوبارہ جو معزز مہمان ہیں ان میں بیٹھ کر پھر کوئی ایسی بات کروں۔چنانچہ جب ( دعوۃ الی اللہ ) ہو رہی تھی اس نے پھر یہی عورت کا سوال اٹھا دیا۔جب میں نے جواب دیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارے مطمئن ہو گئے۔اس وقت اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔اس نے سوچا کہ یہ تو قابو نہیں آتا شاید اس کی بیوی قابو آ جائے۔تو مجھے اس نے کہا آپ کی بیوی ساتھ آئی ہوئی ہیں۔میں نے کہا ہاں آئی ہوئی ہیں۔کہاں ہیں۔میں نے کہا اوپر ہیں۔کہا : ہمیں اجازت ہے ملنے کی۔میں نے کہا آزادی ہے بے شک شوق سے ملیں۔کوئی قید خانہ تھوڑا ہے ( دین حق) میں کہ عورتوں کو قید کر دینا ہے۔جائیں جتنی دیر مرضی بیٹھیں۔چنانچہ میں خود او پر جا کر ان کو چھوڑ آیا لیکن وقت نہیں ملا تعارف کروانے کا کہ یہ پریس کی نمائندہ ہیں ورنہ میری بیوی ذرا زیادہ ہوشیار ہوکر بیٹھتیں۔اندر جا کر اس نے ایسی ہوشیاری کی کہ بہت ہی محبت اور پیار کا سلوک کر کے کہا۔بچاری مظلوم عورت اچھی بھلی شکل، ٹھیک ٹھاک کپڑے اور قید ہوئی ہوئی ہے۔تمہیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہوگی یہاں پھر کے۔یہ ساری دنیا آزاد پھر رہی ہے۔تم نے برقع تمبوسا پہنا ہوا ہے اور اس میں پھر رہی ہو۔اور دل چاہتا ہوگا میں اسے پھاڑ پھوڑ کے باہر نکل جاؤں اور دنیا میں جس طرح ہماری عورتیں آزاد ہیں اس طرح مزے لوں۔جب وہ خوب تقریر کر چکی تو میری بیوی نے اس سے کہا کہ جو تم نے باتیں کی ہیں ان کی مجھے تو کوئی بھی تکلیف نہیں۔میں بڑے مزے میں ہوں۔( دین حق ) تو ہمیں بڑی پیاری زندگی دے رہا ہے۔میں نے بڑی سیریں کی ہیں۔جہاں میرا میاں جاتا ہے وہاں میں ساتھ جاتی ہوں اور جو وہ دیکھتا ہے وہ میں بھی دیکھتی ہوں اور ہم تو بڑا لطف اٹھا رہے ہیں۔ایک تکلیف مجھے بڑی سخت ہے کہ تم لوگ اتنے گندے ہو، اتنے ننگے ہو، کوئی شرم حیا نہیں ہے۔سارا عرصہ جو میں یہاں ٹھہری ہوں نظر اٹھاتی تھی تو واپس آجاتی تھی ، شرم کے مارے دیکھا نہیں جاتا تھا۔وہ ایسی شرمندہ ہوئی کہ کہنے لگی دیکھو میں نے تو ٹھیک کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔اس انٹرویو کے جلد بعد میں نے وہاں سے اسے گھبرا کر نکلتے دیکھا ہے۔مجھے نہیں پتہ تھا واقعہ کیا ہوا۔انگریزی میں ایک محاورہ ہے کہ Bat out of the hell کہ جس طرح چنگا در گھبرا کر جہنم سے نکلتی ہے تو عجیب منظر ہوتا ہے۔یہ ان کا تصویری زبان میں ایک محاورہ ہے