مشعل راہ جلد سوم — Page 704
مشعل راه جلد سوم 704 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے ایک شخص کا قصہ لکھا ہے کہ وہ اولاد کی شرارت کے سبب پابہ زنجیر تھا۔اولاد کو مہمان سمجھنا چاہیے۔اس کی خاطر داری کرنی چاہیے۔اس کی دلجوئی کرنی چاہیے مگر خدا تعالیٰ پر کسی کو مقدم نہیں کرنا چاہیے۔اولا د کیا بنا سکتی ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا ضروری ہے۔( ملفوظات۔جلد 10 صفحہ 90) پھر فرماتے ہیں:۔”میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے۔گویا بد مزاج مارنے والا ہدایت اور ر بوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔ایک جوش والا آدمی جب کسی بات پر سزا دیتا ہے تو اشتعال میں بڑھتے بڑھتے ایک دشمن کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی حد سے سزا میں کوسوں تجاوز کر جاتا ہے۔اگر کوئی شخص خود دار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پورا متحمل اور بردبار اور با سکون اور باوقار ہو تو اسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقتِ مناسب پر کسی حد تک بچہ کو سزا دے یا چشم نمائی کرے۔مگر مغلوب الغضب اور سبک سر اور طائش العقل ہر گز سزاوار نہیں کہ بچوں کی تربیت کا متکفل ہو۔جس طرح اور جس قد ر سزادینے میں کوشش کی جاتی ہے کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوز دل سے دعا کرنے کو ایک حزب مقرر کر لیں اس لئے کہ والدین کی دعا کو بچوں کے حق میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔( ملفوظات جلد اول جدید ایڈیشن 308-309 یہ آخری روایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملفوظات جلد دوم سے لی گئی ہے۔اس کے بعد کچھ روایتیں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی اور بعض حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بچوں سے سلوک کے بارہ میں ہیں، وہ اب وقت نہیں رہا، پھر آئندہ خطبہ میں بیان کر دیں گے۔اس روایت کے بعد میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔ہدایت اور تربیت حقیقی خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے۔اس سے ہماری جماعت کو پر ہیز کرنا چاہیے ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔بس اس سے زیادہ نہیں۔اور پھر