مشعل راہ جلد سوم — Page 698
698 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ایک حدیث مسلم کتاب البر والصلۃ میں انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دولڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ جائیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اکٹھے آئیں گے۔(اس پر ) حضور نے اپنی انگلیوں کو باہم بھینچ کر دکھایا کہ اس طرح اکٹھے ہوں گے۔اب یہاں دو ہوں یا چار ہوں، یہ بحث نہیں مگر دو کی تربیت میں ایک کی تربیت کے علاوہ کیا بات ہے۔جب دو کا ذکر فرمایا گیا یا دو سے زیادہ ہوں تو مطلب یہ ہے کہ دو بچیاں ایک دوسرے سے نمونہ پکڑتی ہیں اور اگر بڑی بچی کی اچھی تربیت ہو تو دوسری کی بھی ساتھ ہی صحیح تربیت ہو جاتی ہے اور دونوں کی تربیت پر ماں باپ کو متوجہ ہونا چاہیے۔اگر وہ ایسا کریں گے تو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بچیوں کی تربیت بہت پیار سے کرتے تھے اور بہت اچھی تربیت کرتے تھے تو گویا آپ کا اسوہ انہوں نے اپنالیا۔اس پہلو۔سے فرمایا ہے کہ جنت میں میں اور وہ اس طرح دو جڑی ہوئی انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ابن ماجه ابواب الادب سے یہ روایت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین صدقہ کے بارہ میں نہ بتاؤں؟ تمہاری مطلقہ یا بیوہ بیٹی جس کا تمہارے سوا اور کوئی کمانے والا نہ ہو اس کی ضروریات کا خیال رکھنا بہترین صدقہ ہے۔(ابن ماجهـ ابواب الادب۔باب بر الوالد والاحسان الى البنات) اب یہ بہت ہی اعلیٰ درجہ کی نصیحت ہے۔کئی لوگ اپنی مطلقہ یا بیوہ بیٹیوں کا خیال نہیں کرتے مگر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سب سے زیادہ تمہارے صدقہ یعنی تمہاری طرف سے حسن و احسان کی محتاج ہیں اور حقدار ہیں۔ان کی ضروریات کا خیال رکھنا بہترین صدقہ ہے۔ایک طرف تو یہ نصیحت ہے ماں باپ کو کہ وہ اپنی مطلقہ اور بیوہ بیٹیوں کا بھی خیال رکھیں، ان پر ہر طرح سے خرچ کریں اور دوسری طرف پاکستان سے بعض بچیاں شکایت کرتی ہیں جو بالکل برعکس معاملہ ہے۔ایک بچی نے بڑا ہی دردناک خط لکھا ہے۔و لکھتی ہیں کہ میں تو بیٹھی بوڑھی ہورہی ہوں اور ماں باپ میری کمائی کھارہے ہیں اور میری کمائی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ دیکھیں کتنا بڑا ظلم ہے۔بالکل برعکس معاملہ ہے۔بجائے اس کے کہ اپنی بچیوں کو پالیں جو ضرورت مند ہوں ، وہ الٹا ان کی کمائی پر بیٹھے براجمان ہیں اور ان کی کمائیاں کھا رہے ہیں اور یہ دیکھتے نہیں کہ ان کی زندگی خراب ہورہی ہے۔مستقبل خراب ہورہا ہے۔تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عقل دے۔ایسے لوگ واقعہ ملتے ہیں آج کل بھی۔کسی بچی نے مجھے لکھ دیا لیکن ہر بچی مجھے لکھا تو نہیں کرتی۔مگر