مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 683 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 683

نعل راه جلد سوم 683 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دین ہے اس کا ایک احسان ہے۔دعوت الی اللہ میں کامیابی کا گر میں نے پہلے بھی بار ہا ذکر کیا ہے کہ ہمارے وقف جدید میں ایسے معلم میسر تھے جن کی ظاہری علمی قابلیت کچھ بھی نہیں تھی مگر بات کا انداز اتنا پیارا تھا کہ وہ دل سے نکلتی تھی اور دلوں میں کھب جاتی تھی اور جہاں تک ( دعوت الی اللہ کی کوششوں کا تعلق ہے بعض بڑے بڑے عالم معلموں سے ان کی (دعوت الی اللہ کی کارروائی بہت زیادہ ہو جایا کرتی تھی۔یعنی ( دعوت الی اللہ کی ) کارروائی کو بہت زیادہ پھل لگتے تھے پس یہ وہی نکتہ ہے جو حضرت مسیح موعود بیان فرما رہے ہیں بعض کو باتوں کا ایساڈھنگ ہوتا ہے کہ جو کچھ کہنا ہوتا ہے وہ کہہ لیتے ہیں اور اس سے ناراضگی بھی پیدا نہیں ہوتی بعض ظاہر میں خبیث معلوم ہوتے ہیں جن سے نا امیدی ہوتی ہے مگر وہ قبول کر لیتے ہیں۔اس طرح رخ بدل کر مخاطب کی بات کر رہے ہیں۔مخاطب بھی کئی قسم کے ہیں بعض ایسے ہوتے ہیں جن کو انسان سمجھتا ہے شروع میں کہ بڑا شدید متعصب اور مخالف ہے اور اس سے اس وجہ سے منہ موڑ لیتا ہے حالانکہ پہلے سلیقے اور پیار سے بات کرنے کا ڈھنگ سیکھ لو ایسے لوگوں سے جب پیار اور محبت سے بات کرو گے تو جن کے دل اندر سے نرم ہے ان کی ظاہری خشونت بھی جاتی رہے گی اور وہ دل نرم پڑ جائیں گے جیسے بعض پتھروں سے خدا تعالیٰ پانی کے چشمے بہا دیتا ہے اس طرح یہ پتھر نظر آنے والے لوگ خد کی راہ میں نرم ہو جائیں گے اور ان کے دل سے ( دین حق کے لئے شیریں چشمے جاری ہو جائیں گے۔اس کی ایک مثال حضرت مسیح موعود خود اپنے تجربہ میں دیتے ہیں بعض ظاہر میں خبیث معلوم ہوتے ہیں جن سے ناامیدی ہوتی ہے مگر وہ قبول کر لیتے ہیں اور بعض غریب طبع دکھائی دیتے ہیں اور ان پر بہت کچھ امید کی جاتی ہے مگر وہ قبول نہیں کرتے اس لئے قول موجہ کی ضرورت ہے جس سے آخر کار فتح ہوتی ہے یعنی اس کے برعکس بھی یہ بات درست ہے کہ بعض بڑے نرم نرم ہاں میں ہاں ملانے والے ہوتے ہیں لیکن جب ان کو پیچھے پڑ کر دعوت الی اللہ ) کی جائے اور وہ سمجھ جائیں کہ ہمیں یہ لینا چاہتے ہیں تو پھر ان کے دل سخت ہونے شروع ہو جاتے ہیں حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔ہر ایک کو ایسی بات کرنی نہیں آتی۔پس چاہیے کہ جب کلام کرے تو سوچ کر اور مختصر کام کی بات کرے بہت بحشیں کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا پس