مشعل راہ جلد سوم — Page 680
680 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم نیچے طبقے اور نہ بہت اونچے طبقے کے۔وہ بات کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کے مزاج میں وہ تعلی اور تکبر اور نزاکت بھی نہیں ہوتی جو امراء کے مزاج میں ہوتی ہے اس لئے ان کو سمجھا نا بہت مشکل نہیں ہوتا۔ہمارا تجربہ ہے ہر جگہ یہی تجربہ ہے خصوصاً یورپ میں تو خصوصیت کے ساتھ انگلستان میں میں نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر بات وہی سمجھتے ہیں جو متوسط درجے کے ہیں۔بہت اونچوں کو دلچسپی کوئی نہیں دین میں بہت نیچوں کو مادہ پرستی نے گھیرا ہوا ہے۔اور اگر دین سے رغبت ہے بھی تو اپنے پادریوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔لیکن متوسط طبقہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے عموماً ہماری ( دعوت الی اللہ ) کی پہنچ میں ہوتا ہے۔اور یہی حال جرمنی کا بھی ہوگا اور یقینا یہی ہوگا تو آپ لوگ بھی اس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصیحت کو حرز جان بنائیں پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اصل مقصود کے پانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجاہدہ ٹھہرایا ہے یعنی اپنا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعے سے اور اپنی طاقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعے سے اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعے سے اور اپنی عقل کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعے سے اس کو ڈھونڈا جائے۔اب دیکھیں کتنا پیارا مقصد ہے ( دعوت الی اللہ ) کا جو بالکل کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیا ( دعوت الی اللہ ) کا مقصد لوگوں کو پانا نہیں خدا کو پانا ہے اگر اس مقصد سے ( دعوت الی اللہ ) کریں گے تو اللہ تعالیٰ بہت کامیاب کرے گا۔یعنی دنیا مل جائے گی یعنی دنیا کے مددگار بھی آپ کومل جائیں گے۔اور خدا بھی آپ سے راضی ہو جائے گا۔مگر پیش نظر یہی رہنا چاہیے کہ اللہ کو ڈھونڈنے کی خاطر ہم (دعوت الی اللہ ) کرتے ہیں۔بظاہر نیک بندوں کو ڈھونڈ رہے ہیں مگر اصل مقصد یہ ہے کہ ان کی وساطت سے اللہ مل جائے فرمایا اس کو ڈھونڈا جائے جیسا کہ وہ فرماتا ہے (جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَانْفُسِكُمْ ) یعنی اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کرو۔اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مضمون کو مزید واضح اور آسان کرتے چلے جاتے ہیں کہ ( دعوت الی اللہ ) کیسے ہونی چاہیے اور کیا کیا ضرورتیں ہیں جو اس راہ میں پیش آئیں گی۔فرماتے ہیں ( دعوت الی اللہ ) سلسلہ کے واسطے ایسے آدمی کے دوروں کی ضرورت ہے مگر ایسے لائق آدمی مل جاویں کہ وہ اپنی زندگی اس راہ میں وقف کر دیں۔تو واقفین کا مضمون بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے ہی آغاز پاتا ہے۔یہ کوئی بعد کی تحریک نہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گویا سب سے پہلے وقف کی تحریک فرمائی۔ایسے لائق آدمی مل جائیں کہ وہ اپنی زندگی اس راہ میں وقف کر دیں۔پرانے زمانے میں حضرت رسول اللہ صلعم کو اس قسم کے وقف کی ضرورت نہیں تھی جیسے اب رائج ہے۔کیونکہ سارے صحابہ ہی اپنے آپ