مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 620 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 620

620 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہونے کے لحاظ سے وہ حکم بھی دیتے ہیں اور حکم کا دائرہ مامور کے دائرے کے اندر ہوا کرتا ہے لیکن انہیں حکم دینے کا اختیا ر ہے ہر موقع پر وہ اپنی سوچ کے مطابق حکم دے سکتے ہیں۔اسی طرح دنیا دار اولوالامر کا حال ہے ان کو بھی ایک دائرے میں محدود ہو کر اپنے حکم کو جاری کرنا چاہیے جو قوانین کا دائرہ ہے، جو ان لوگوں کی توقعات کا دائرہ ہے جنہوں نے ان کو ووٹ دیئے اور اس نسبت سے وہ مامور ہوئے لیکن اپنی ماموریت کی حیثیت کو بھول جاتے ہیں اور اولو الا مر بنتے ہیں اور ان لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق حکم دیتے ہیں۔یہ دنیا داروں کا حال ہے۔مگر جہاں تک ان کے اولوالا مر ہونے کا تعلق ہے اس سے انکار نہیں اور جب تک وہ اولوا الا مر رہتے ہیں ان کی اطاعت کرنی ضروری سمجھی جاتی ہے۔معتمد کے فرائض یہ ساری بخشیں نظام جماعت سے تعلق رکھنے والی بحثیں ہیں۔آج میں اس نیت سے ان بحثوں کو چھیٹر رہا ہوں کہ بعض دفعہ ضرورت پڑتی ہے کہ سلسلے کے کارکنوں کو ان کی حیثیت ، ان کے دائرہ کار کے متعلق اچھی طرح وضاحت سے سمجھایا جائے۔میں نے محسوس کیا ہے کہ بعض لوگ مثلاً معتمد جن کا فریضہ ایک جماعت میں معتمد کا ہے وہ لوگ بعض دفعہ ذوالا مر بھی بننے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ذوالا مرا میر ہے اور معتمد ذ والا مر نہیں ہے۔امیر مامور بھی ہے یعنی ایک لحاظ سے معتمد بھی ہے لیکن امر دینے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔اسی طرح سلسلے کے تمام عہدے جو کسی بھی تنظیم سے تعلق رکھتے ہوں جماعتی تنظیم سے یا ذیلی تنظیموں سے سب میں یہ دوسلسلے ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ہر چھوٹے سے چھوٹے دائرے میں مثلاً خدام الاحمدیہ کا چھوٹا دائرہ ہے اس کے اندر جو بہت چھوٹے دائرے مقامی جماعتوں سے یا خدام کی مجالس سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سے بھی ایک معتمد ہوا کرتا ہے اور ایک زعیم بھی ہوتا ہے۔معتمد کو اپنی طرف سے کوئی حکم جاری کرنے کا کسی دائرے میں بھی اختیار نہیں۔وہ صرف کان ہوتا ہے جو اپنے ذوالا مر کی طرف لگے رہتے ہیں ، جو کچھ اس کو کہا جائے بعینہ وہی کام کرتا ہے۔اگر وہ اپنی طرف سے کوئی حکم جاری کرے گا تو وہ معتمد ہی نہیں رہے گا۔وہ فرشتوں کے قریب ترین ہے تو اپنی اس حیثیت سے کیوں خوش نہیں ہوتا کہ میں فرشتہ ہوں۔خدا کے فرشتے بھی تو مامور ہوا کرتے ہیں ذوالا مر نہیں ہوا کرتے۔سارے قرآن میں کہیں بھی فرشتوں کو ذ والا مرنہیں فرمایا گیا، مامور ہیں اور اپنے دائرہ کام میں بعینہ وہی فرائض سرانجام دیتے ہیں جن کا حکم دیا گیا ہے۔ان احکامات میں سے جب وہ کوئی حکم لوگوں تک