مشعل راہ جلد سوم — Page 619
مشعل راه جلد سوم 619 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی:- يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُوْنَ ) (التحريم:) یہ سورۃ تحریم کی ساتویں آیت ہے جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس کا جو تر جمہ تفسیر صغیر میں درج ہے وہ یہ ہے کہ اے مومنو! اپنے اہل کو بھی اور اپنی جانوں کو بھی دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن خاص لوگ یعنی کافر ہونگے اور اسی طرح پتھر جن سے بت بنے۔اس دوزخ پر ایسے ملائکہ مقرر ہیں جو کسی کی منت و سماجت سننے والے نہیں بلکہ اپنے فرض کے ادا کرنے میں بڑے سخت ہیں اور اللہ نے ان کو جو حکم دیا ہے اس کی وہ نافرمانی نہیں کرتے اور جو کچھ کہا جاتا ہے وہی کرتے ہیں۔یہ ترجمہ و تفسیر صغیر سے پیش کیا گیا ہے یہ تفسیری ترجمہ ہے۔جہاں تک اس مضمون سے تعلق ہے جو آج میں نے آپ کے سامنے بیان کرنا ہے اس میں اس کے بعض پہلو ، بعض ایسے الفاظ سے تعلق رکھتے ہیں جو اس آیت میں وضاحت کے ساتھ درج ہیں۔يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ یہ فرشتوں کی ایک صفت ہے اور آج کا میرا امضمون اسی صفت مَا يُؤْمَرُونَ سے تعلق رکھتا ہے۔ملمسلہ کے کارکنان اور ان کا دائرہ کار اسلام میں دو طرح کی اصطلاحیں رائج ہیں۔ایک مامور کی اور ایک اولوالامر یا ذوالامر کی۔مامور ہمیشہ فرشتوں سے مشابہت رکھتے ہوئے وہی کچھ کرتا ہے جس کا اس کو حکم دیا گیا ہے، اُس سے ہٹ کر اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کر سکتا مگر بعض لوگ صرف مامور ہوتے ہیں اور بعض مامور بھی اور اولوا الا مر بھی۔یعنی مامور ہونے کے لحاظ سے جو کچھ کہا جائے وہی کر سکتے ہیں اس سے زائد یا کم نہیں کرتے اور اولوا الامر