مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 606 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 606

606 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم تم کام ہی چھوڑ بیٹھو۔پس مومن اپنے آرام کی خاطر بنی نوع انسان کو بھلائی کی طرف بلانے سے اور برائی سے روکنے سے باز نہیں آسکتا یہ وہ وجہ ہے کہ بیچ میں لفظ تو منون باللہ رکھ دیا ہے اور جو اللہ پر ایمان کی خاطر ایسا کریں اور کبھی بھی اس کام کونہ چھوڑیں ان سے بہتر اور کون ہوسکتا ہے۔تو اس آیت کریمہ میں ایک ایک لفظ کے ساتھ دلائل دیئے گئے ہیں۔ایسے قطعی دلائل دیئے گئے ہیں جن کا کوئی قوم انکار نہیں کرسکتی۔اتنا مضبوط اور منفرد کلام ہے ایک لفظ سے دوسرے لفظ کی طرف منتقل ہوتا چلا جاتا ہے اور ہر انتقال میں ایک قوی دلیل شامل ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْ آمَنَ اَهْلُ الْكِتَبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمُ۔اہل کتاب میں بھی اچھے لوگ ہیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں یہود میں بھی اچھے لوگ ہیں۔عیسائیوں میں بھی اچھے لوگ ہیں ، ان کی بھلائی سے انکار نہیں۔مگر ان کے ایمان کی کمی کو ایک نقص کے طور پر دکھایا گیا ہے۔فرمایا کاش ایسا ہوتا کہ وہ اچھے لوگ ایمان بھی رکھتے۔اگر ایمان لاتے تو ان کی نیکیاں ضائع نہ ہو جاتیں۔لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمُ پھر اتنی احتیاط کے ساتھ قرآن کریم تمام بنی نوع انسان کے حالات کا جائزہ لیتا ہے کہ ایک ذرہ بھی غلطی کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔فرماتا ہے مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ یہ نہیں کہا جارہا کہ اہل کتاب اور اہل کتاب کی دونوں قسمیں یعنی یہود اور عیسائیوں میں سے کوئی بھی مومن نہیں۔اللہ فرماتا ہے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔بحیثیت جماعت کاش ایسا ہوتا کہ وہ اہل کتاب ہوتے ہوئے ایمان بھی لاتے لیکن اَكْثَرُ هُمُ الفسِقُونَ۔ان میں مومن تو ہیں مگر تھوڑے ہیں، بہت تھوڑی تعداد ہے۔اور ان کی بھاری اکثریت فاسق ہے۔ان کے بداعمال بتاتے ہیں کہ ان کا حقیقی ایمان کوئی بھی نہیں ہے۔یہ وہ آیت کریمہ ہے جس کے متعلق جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے، یہی سوال اٹھتا تھا۔تو میں نے سوچا اسی مضمون کو میں اخذ کر کے مجلس خدام الاحمدیہ کو اور آپ کی وساطت سے سب دنیا کو جو نصیحت کرنی ہے اس کو اس مضمون کے تعلق میں بیان کروں۔تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ - يلفظ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ جو ہے یہ دراصل نَهِي عَنِ الْمُنْكَرِ کا اشارہ نماز میں بھی اسی طرح کیا گیا ہے۔نَهِی عَنِ الْمُنْكَرِ کرنی ہے تو بہترین ذریعہ نماز ہے اور نماز ہی آپ کو بھی عَنِ الْمُنكَرِ کے طریق سکھائے گی۔إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ۔جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے۔یہ نماز ہی ہے جو منکر سے آپ کو روکتی ہے۔جیسا کہ فرمایا اتل مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَاَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (سورة العنكبوت: ۴۶)۔اے محمد ! جو بھی تیری طرف وحی کی جارہی ہے کتاب میں سے اس کو پڑھ کر سنا اَقِمِ الصَّلاةَ اور نماز کو قائم کر۔اِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ