مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 586 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 586

مشعل راه جلد سوم 586 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی طرح آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں اور ان کو پورا کرنے کی کوشش کریں لیکن ایک فرض کے طور پر نہیں بلکہ دلی لگاؤ کے ساتھ۔دلی لگاؤ اور اعلیٰ اقدار کا ایک گہرا تعلق ہے جو اعلیٰ اقدار کے دوام کے لئے ضروری ہے۔عارضی طور پر اگر آپ نصیحتیں سن کر اپنے اندر مشکل سے تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں اور ان نیک تبدیلیوں پر قائم رہنے میں ہمیشہ مشکل محسوس کرتے ہیں تو ان کے دوام کی کوئی ضمانت نہیں۔کچھ عرصہ کے بعد آپ کا دل ہار جائے گا اور کہیں گے چلو کوئی بات نہیں، کچھ دیرہ نیکی کر لی، اب چلو دنیا کے عیش بھی دیکھ لیں۔لیکن اگر آپ کو ان سے محبت ہو جائے ان قدروں کے ساتھ ، ان اخلاق کے ساتھ جو نیکی کی محبت آپ کے دل میں پیدا کر رہی ہیں تو پھر کسی فکر کی ضرورت نہیں ہے۔جس ماحول میں آپ جائیں گے وہ آپ کے ساتھ ساتھ جائیں گی۔ہمیشہ وہ ماحول کو آپ کے مزاج کے مطابق تبدیل کرتی رہیں گی۔آنے والوں کا ہم پر حق ہے پس اس پہلو سے آئندہ آنے والی (تربیت) کے لئے بھی اپنے آپ کو تیار کریں اپنی نسلوں کے لئے جو آپ خدا کے حضور جواب دہ ہیں، اس نقطہ نگاہ سے بھی ان کو تیار کریں اور یا درکھیں کہ آنے والوں کا ہم پر حق ہے۔ہر آنے والے نے اس کی مہر کو ضرور قبول کرنا ہے یا اس کے اثر کو کچھ نہ کچھ ضرور لینا ہے جس نے اسے احمدیت کا پیغام دیا۔پس بہت بڑا کام ہے مگر ہمیں کرنا ہے۔امریکہ کی تبدیلی ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔اگر اب ہم نے نہ کی تو کوئی اور نہیں کر سکے گا۔یہ ایک ایسی قطعی بات ہے جس میں کوئی آپ تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام دنیا میں تبدیلیاں اور پاک تبدیلیاں قائم کرنے کے لئے پیدا فرمائے گئے ہیں۔ان کو دنیا سے نکال دو تو دنیا میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔دیکھو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا سے کیا عرض کیا تھا، جب آپ کو بتایا گیا کہ لوط کی قوم مٹائی جانے والی ہے تو بہتوں سے شروع کر کے آخر دس تک جا پہنچے، اے خدا! ان میں دس بھی نیک نہیں ہیں جن کی خاطر لاکھوں کو زندہ رکھا جاتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے جواب دیا کہ دس بھی نیک نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رحم کے تعلق میں بہت جھگڑا کرنے والا تھا اور یہ ایک ابرا ہیم علیہ السلام کی تعریف ہے جو بظاہر برائی ہے۔مگر اللہ بڑے محبت کے انداز میں بیان کر رہا ہے کہ یہ تو ہم سے بھی جھگڑا کرتا ہے مگر ہماری مخلوق پر رحم کرتے ہوئے۔وہاں ابراہیم نے جھگڑا چھوڑ دیا اے خدا ! اگر ان میں دس بھی ایسے نہیں ہیں تو پھر