مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 572 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 572

572 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی ނ مشعل راه جلد سوم اس کے بہت ہی پیارے رنگ ہوتے ہیں، نظر کو بھاتا ہے۔اسی طرح بعض کاٹنے والے جانور ہیں جو بہت خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔ان کے متعلق اگر یہ سمجھایا جائے کہ ان کو جب تم ہاتھ لگاؤ گے، ان کی طرف مائل ہو گے تو لا زما یہ ڈسیں گے اور لازماً نقصان پہنچائیں گے اور اس بات کو اگر بچپن ہی سے دل میں بٹھایا جائے تو کوئی انسان جو اس حکمت کو سمجھ جائے وہ ان کی طرف ہاتھ بڑھانے کی جرات نہیں کر سکتا۔لیکن اگر یہ حکمت بچپن سے بتائی نہ جائے اور سمجھائی نہ جائے اور دل میں بٹھا نہ دی جائے تو پھر انسان ایسے تجربے کرنے پر آزادی محسوس کرے گا۔پس یہ نہ سمجھیں کہ معاشرے کی خرابیوں کو سمجھانے کا وقت بلوغت کے بعد شروع ہوگا۔بچپن۔سمجھانا ضروری ہے، ان بچوں کے ساتھ بیٹھنا ضروری ہے، ان کو ٹیلی ویژن دکھانی ضروری ہے۔جو ٹیلی ویژن یہ دیکھتے ہیں اس وقت ماں باپ کو چاہیے کہ کچھ اپنا وقت خرچ کریں اور ساتھ بیٹھیں اور ان کو بتا ئیں کہ دیکھو یہ خرابیاں ہیں اور ان خرابیوں کی حکمتیں اس طریق پر سمجھائی جائیں کہ وہ جاگزیں ہو جائیں اور انسانی فطرت اور سوچ کا حصہ بن جائیں۔اس سلسلے میں چند مثالیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مثلاً اگر ان کو یہ سمجھایا جائے کہ یہ بدیاں چیز کیا ہیں؟ کیوں ان سے منع کیا جاتا ہے؟ نیکیاں کیا ہوتی ہیں؟ اور نیکی کے فوائد کیا ہیں؟ اور پھر معاشرے کے حوالے سے ان کی تفصیل سمجھائی جائے تو ناممکن ہے کہ بچہ ان امور کی طرف توجہ نہ دے۔پہلی بات جو نمایاں طور پر ان کے سامنے رکھنی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ بدی سے ایک لذت پیدا ہوتی ہے، اس کا انکار کرنا جائز نہیں۔ہر قسم کی بدی سے ایک لذت حاصل ہوتی ہے لیکن وہ لذت ہمیشہ یا الٹ کر اس بدی کرنے والے کو نقصان پہنچاتی ہے یا ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے۔پس ہر وہ لذت جس کے ساتھ ایک نقصان وابستہ ہو چکا ہے جس سے اس کو علیحدہ کیا جاہی نہیں سکتا وہ بدی ہے۔لیکن لذت سے محرومی کا نام نیکی نہیں ہے۔یہ اگلا قدم ہے جس پر ان کو خوب اچھی طرح سمجھا نا ضروری ہے کہ ہم جو تمہیں نیکی کی طرف بلاتے ہیں اس لئے کہ نیکی میں ایک لذت ہے اور بدی کی لذت اور نیکی کی لذت میں بہت بڑا فرق ہے۔بدی کی لذت میں ضرور کوئی نہ کوئی کانٹا چھپا ہوتا ہے، وہ ضرور نقصان پہنچاتی ہے اور جتنی بھی موجودہ سوسائٹی کی بدیاں ہیں ان کو دیکھ لیں وہ لازما سوسائٹی میں بے اطمینانی پیدا کریں گی اور کسی نہ کسی خرابی پر منتج ہوں گی۔چنانچہ ساری سوسائٹی میں وہ خرابی بے چینی بن کر پھرتی ہے لیکن سوسائٹی اس بے چینی کے باوجود اپنی لذت کے حصول کی خاطر اس کی طرف لپکتی بھی ہے۔