مشعل راہ جلد سوم — Page 567
مشعل راه جلد سوم 567 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی سب سے زیادہ جلدی حاصل کی جاسکتی ہے۔دنیا کی ہر سوسائٹی میں یہ مسئلہ ہے لیکن امریکہ میں تو ماحول میں اتنی زیادہ سرعت کے ساتھ دل کی لذت کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں کہ بچوں کو بہکانے کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی چیز ممکن نہیں ہے۔چنانچہ جب وہ گھر کے ماحول سے نکلتے ہیں تو باہر کا ماحول انہیں بدیوں میں خوش آمدید کہتا ہے، نیکیوں میں نہیں اور یہ ایک اس ماحول کی خصوصیت ہے جسے بچوں کو سمجھا ناضروری ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بچے یہ شکایت کرتے ہیں کہ جب ہم (دینی) طریق پر عمل کر رہے ہوں تو لوگ ہم پر ہنستے ہیں ، لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ یہ اور قسم کی نسل ہے اور ماحول کا یہ اختلاف اور نیکی پر حملہ کرنا، یہ امریکہ کے ماحول کا ایک جزو بن چکا ہے۔امریکہ کی فضا ایسی ہے کہ وہ لازماً گھر سے باہر نکلنے والے بچوں کو اپنی طرف کھینچے گی اور ان کی اچھی عادات کو فرسودہ خیالات کہہ کر ان کو رد کرتی ہے، اس کے نتیجے میں بچے میں خود اعتمادی کا فقدان ہو جاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ جو اپنے گھر سے میں اقدار لے کر چلا تھا سوسائٹی میں تو ان کی کوئی قیمت نہیں۔سوسائٹی میں جن اقدار کی قیمت ہے وہ ایسی اقدار ہیں جن کو گھر میں برا کہا جاتا ہے۔پس آزادی کا ایک احساس باہر نکل کر ایسا پیدا ہوتا ہے جو تیزی کے ساتھ ایسے بچوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔پس اس مشکل کو پیش نظر رکھتے ہوئے لازم ہے کہ بچپن ہی سے بچوں کے دل اپنی طرف یعنی ماں باپ اپنی طرف مائل کریں اور گھر کے ماحول میں ان کی لذت کے ایسے سامان ہونے چاہئیں کہ وہ باہر سے گھر لوٹیں تو سکون کی دنیا میں لوٹیں، بے سکونی سے نکل کر اطمینان کی طرف آئیں اور یہ باتیں صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت پر غور کیا جائے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دائیں کان میں اذان دو اور بائیں کان میں تکبیر کہو۔بہت سے لوگ ہیں جو اس کا فلسفہ نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا تو کوئی فائدہ نہیں۔اکثر ایسے بچے مختلف زبانیں بولنے والوں کے بچے ہوتے ہیں، ان کو تو عربی کا بھی کچھ پتہ نہیں کہ کیا چیز ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ بظاہر ایک بے کار بات ہے۔میں اس وقت اس تفصیل میں نہیں جاتا کہ نفسیاتی لحاظ سے اس کا کیا اثر پڑتا ہے اور بچے کا دماغ کن باتوں کو شروع ہی سے قبول کرتا ہے اور پھر محفوظ رکھتا ہے۔اس بحث کو چھوڑتے ہوئے میں ان ماں باپ کو بتا رہا ہوں جو اذان دیتے یا دلواتے ہیں ، وہ تکبیر دیتے یا دلواتے ہیں۔ان کو تو متوجہ ہونا چاہیے وہ تو باشعور ہیں۔آخر کیوں یہ کہا گیا ؟ ایک اس کا پہلو وہ ماں باپ ہیں جن کے ہاں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ان کو سمجھایا گیا ہے کہ بچپن ہی سے بچوں کی صحیح تربیت کرو ورنہ بعد میں یہ ہاتھ سے نکل جائیں گے۔تو پہلی تربیت کا وقت بچپن کا آغاز ہے اور