مشعل راہ جلد سوم — Page 484
484 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم که میری امت تمام دوسرے انبیاء کی اُمت سے بڑھ کر ہے لیکن آپ کی اس تمنا میں ہر گز محض عددی اکثریت پیش نظر نہ تھی، بلکہ متقیوں کے بڑھنے کا مضمون آپ کے سامنے تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک دعا سکھائی تھی جس کا قرآن میں ذکر ملتا ہے۔وہ دعا یہ ہے۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا - ( سورة الفرقان: 75) کہ اے اللہ ! ہمیں اپنے ازواج کے ساتھ اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ ایسا تعلق عطا فرما اور ان کو ایسی نشو ونما عطا فرما کہ وہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائیں لیکن یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تب نصیب ہوگی جب اس دعا کا دوسرا حصہ پورا ہوگا ، جو یہ ہے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا کہ ہمیں متقیوں کا امام بنانا، فاسقوں اور فاجروں کا امام نہ بنانا۔پس یہ دُعا جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی تمنا تھی جسے کلام الہی نے ایک دعا کا رنگ دیا اور تمام امت کے فائدے کے لئے قرآن میں اس دعا کو محفوظ فرمایا اس دعا میں یہ پہلو خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ واحد کے صیغہ میں یہ دعا نہیں سکھائی گئی بلکہ جمع کے صیغہ میں سکھائی گئی ہے۔جیسا کہ دعا کے الفاظ سے ظاہر ہے۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا - اور اُمت محمدیہ کو نصیحت فرما دی گئی کہ ساری امت حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس دعا میں شریک ہو جائے کہ اے خدا! ہمیں متقیوں کا امام بنا۔اس میں گہرا نکتہ یہ ہے کہ اگر چہ دیگر انبیاء بھی متقیوں کے امام تھے مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی اس دعا کے نتیجے میں متقیوں کے اماموں کے امام بن گئے۔آپ کی امت کے ہر فرد سے صرف یہی توقع نہیں کی گئی کہ وہ متقی ہو جائے بلکہ اس سے توقع یہ رکھی گئی ہے کہ وہ متقیوں کا امام بنے۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم مرتبہ محض یہ نہیں کہ آپ متقیوں کے امام ہیں بلکہ متقیوں کے آئمہ کے امام ہیں اور احمدی ہونے کی حیثیت میں آپ کو اس دعا کی مقبولیت کا نشان بننا ہوگا۔اس دعا کی مقبولیت کا آپ کو دنیا میں ایک جیتا جاگتا ثبوت مہیا کرنا ہوگا۔اگر آپ متقی بھی نہ ہوں کجا یہ کہ آپ متقیوں کے امام ہوں تو کیسے حضرت اقدس محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کی مقبولیت کا آپ نشان بن سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔جب تک بیماری کی تشخیص نہ ہو اس وقت تک انسان مرض کا صحیح علاج نہیں کر سکتا۔پس جو تشخیص