مشعل راہ جلد سوم — Page 451
451 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم ظَلُومًا جَهُولًا ( الاحزاب: 73) کی عظیم الشان تفسیر فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر چل رہا ہے۔آپ ہی کے متعلق فرمایا گیا ہے۔جب زمین، آسمان ، پہاڑوں نے امانت اٹھانے سے انکار کر دیا اور ڈر گئے۔فَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ۔تو دیکھو انسان کامل آگے بڑھا اور اس نے اس عظیم امانت کا بوجھ اٹھالیا جود نیا میں کسی اور طاقت کو نصیب نہیں ہوئی۔اس کے معابعد فرمایا "إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا، یہ تو بڑا ظَلُوم ہے، بڑاجھول ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں ظَلُوم کا لفظ اور جھول کا لفظ ان عام معنوں میں استعمال ہوا ہو جو عموماً کسی کے اوپر تنقید کی جائے تو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے۔یہ تنقید کے معنی تو نہیں رکھتے۔یہ تو عظیم الشان تعریف کے معنی رکھتے ہیں۔پس ظلوم کی آپ نے یہ تفسیر فرمائی کہ یہ اپنے نفس پر حد سے زیادہ ظلم کرنے والا ہے۔یعنی اپنے نفس کی کوئی کمزوری بھی اس کی نظر سے الگ نہیں رہتی اور جہاں نفس کی کمزوری دیکھتا ہے اس کو پکڑتا ہے اور اس کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اور جھولا کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی خاطر اس نے یہ بوجھ اٹھا لیا ہے اور کوئی پروانہیں کہ اس بوجھ سے اس کی ہستی چاہے دب کر پارہ پارہ ہو جائے اس کو کوئی پروا نہیں۔اتنا عظیم الشان بوجھ اور اتنا وزنی بوجھ جس کو پہاڑوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور عرض کیا کہ اے خدا! مجھ پر یہ امانت ڈال دے میں اس امانت کا حق ادا کروں گا۔پس عواقب سے بے خبر ہو گئے اس کا معنی ہے جھولا۔پس حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نفس کو جو خدا کے تابع کیا اس کے لئے دو باتوں کی ضرورت ثابت ہوئی۔اول یہ کہ کوئی شخص بھی جو اپنے نفس پر رحم کرنے والا ہو وہ خدا کی خاطر اپنے نفس کو ڈھال نہیں سکتا۔کیونکہ جو اپنے نفس پر رحم کرے گا اس نے کہاں خدا کی خاطر اپنے نفس میں پاک تبدیلیاں پیدا ہونے دینی ہیں۔یہ ایسی بات ہے جیسے بعض مائیں اپنی جہالت میں صبح کے وقت بچوں پر رحم کرتی ہیں کہ اس کو کوئی نہ اٹھائے نماز کے لئے نہیں اٹھے تو کوئی بات نہیں۔وہ رحم نہیں ہے وہ ظلم ہے۔پس خدا کی خاطر اپنے نفس پر ظلم کرنا دراصل رحم ہے اور خدا کی خاطر عواقب سے بے خبر ہو جانا یہ در اصل دانش مندی ہے۔پس ان معنوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سب سے بڑا جو تحسین کا کلمہ جو قرآن کریم میں ملتا ہے وہ یہی ہے کہ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا“ یہ تو اپنے نفس پر حد سے زیادہ ظلم کرنے والا نکلا۔اور خدا کی خاطر عواقب سے کلیہ بے پرواہ ہو گیا۔جو ہوتی ہے میرے ساتھ گزر جائے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔پس آغاز نبوت سے لے کر دنیا نے جو آپ سے سلوک کیا ہے وہ اس بات کا گواہ ہے کہ ان معنوں میں آپ جھولا تھے۔ورنہ آنکھیں کھول کر دانش مندی کے ساتھ دنیا کی