مشعل راہ جلد سوم — Page 450
مشعل راه جلد سوم 450 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں ، ان کی کوئی حقیقت نہیں۔پس آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ خدا کی صفات کو اپنے اندر جاری کریں اور اپنا رخ خدا کی طرف کرلیں اور پھر ہمیشہ اپنی صفات پر نظر رکھیں کہ کونسی صفت ابھی تک ٹیڑھا مزاج رکھتی ہے۔آپ اس کو خدا کی طرف مائل کرتے ہیں پھر وہ ادھر دوسری طرف چلی جاتی ہے۔کتے کی دم کے متعلق کہتے ہیں کہ کسی نے بارہ سال تک اس کو ایک نالی میں سیدھا رکھا۔دیکھنے کے لئے کہ کتے کی دم سیدھی بھی ہوسکتی ہے یا نہیں۔کہتے ہیں بارہ سال کے بعد جب اس نے وہ نالی نکالی تو دم پھر ٹیڑھی کی ٹیڑھی۔تو بعض انسانوں میں بعض کجیاں اتنی شدت اختیار کر جاتی ہیں کہ ان کو آپ جتنا چاہیں تربیت دیتے چلے جائیں جب وہ تربیت کا دباؤ ہٹا ئیں گے تو پھر وہ ٹیڑھے ہو جائیں گے۔پھر وہی پرانی شکل واپس آجاتی ہے۔ایک نفس کا اندرونی مربی ہے۔ان ٹیڑھی عادتوں کو اس کے سوا کوئی دوسرا صحیح نہیں کر سکتا لیکن وہ بھی دعا کی مدد سے یہ طاقت ملتی ہے۔بیرونی اثرات ان طبیعتوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔آپ ہیں خود جو اپنے نگران بنیں تو کام بنے گا۔اگر آپ اپنے نگران نہیں بنیں گے تو کوئی زعیم، کوئی قائد، کوئی بیرونی اثر رکھنے والا انسان آپ کی نگرانی کا حق ادا نہیں کرسکتا۔مگر بد قسمتی سے انسان اپنے وجود کو اپنے ساتھ نہیں رکھتا۔اپنے نگران کو سلا دیتا ہے۔اس کی نگرانی کی عادت کو تھی کا تھکا کر ایسی نیند سلا دیتا ہے کہ پھر اس کا کوئی نگران باقی نہیں رہتا۔آپ میں سے اکثر جب اپنے نفس پر غور کریں گے تو حیران ہوں گے یہ دیکھ کر کہ خدا نے تو آپ کو ایک اندرونی نگران عطا فرمایا تھا مگر آپ نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔آپ نے اس کو کبھی موقع ہی نہیں دیا کہ وہ آپ کے اوپر اندرونی تبصرہ کر سکے۔اس کے برعکس آپ کا وہ نگران جو غیروں کے عیوب ڈھونڈتا ہے وہ ہمیشہ بیدار رہتا ہے۔اب دیکھیں کتاب اظلم ہے جو اپنی ذات سے آپ کر رہے ہیں۔اللہ تعالی نے آپ کو نگران اس لئے دیا تھا کہ آپ اپنی ذات کے عیوب دیکھیں اور اس کو تلاش کر کر کے جتنا پاک پانی سے دھو سکیں دھوئیں اور صاف کریں۔ان داغوں کو دور کریں اور جو کجیاں ہیں ان کو دور کریں۔اس کی بجائے اکثر دنیا میں یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ غیروں پر تو بڑی تیز نگاہ رکھتے ہیں اور بڑی سخت تنقید کی نگاہ سے ان پر تبصرے کیے جاتے ہیں لیکن اپنے وجود کو بھول جاتے ہیں۔پس اپنے نگران کو جگانا پڑے گا۔اس کے بغیر طبیعت کی بھی دور نہیں ہو سکتی۔اس کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتا کہ کن باتوں میں غیر اللہ کی طرف مائل ہوں۔کونسے سے میرے وجود کے حصے ہیں جو ابھی تک سیدھے نہیں ہوئے۔پس اس اندرونی شعور کی بیداری سے حقیقت میں خدا کا رستہ ملتا ہے اور اس پہلو سے انسان کو اپنے اوپر ظلم کر نا پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے "إِنَّهُ كَانَ