مشعل راہ جلد سوم — Page 443
443 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم آج کے خطاب میں میں نے اس کا جیسا کہ میں نے بیان کیا وہ حصہ چنا ہے جس میں بندے کے بندے سے تعلقات کا مضمون ہے۔خدا سے تعلق کا مضمون تو آپ پر واضح ہو گیا کہ جتنا بھی آپ خدا کی صفات کو اپنے اندر جاری کرنے کی کوشش کریں گے اتنا ہی آپ کی دعاؤں میں طاقت پیدا ہوگی ، اتنا ہی خدا سے تعلق آپ کا خدا کے پیار کی شکل میں آپ پر برسنے لگے گا۔آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کی ذات میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ دنیا سے مختلف ہوتے چلے جارہے ہیں۔یہ تو خدا سے تعلق کا حصہ ہے۔اس تعلق کے بعد پھر مخلوق سے تعلق جو مذہب کا دوسرا حصہ ہے یہ شروع ہوتا ہے اور جب تک پہلا تعلق نہ ہو دوسرا تعلق بے معنی اور بے حقیقت ہے۔آپ جب خدا کے بندوں سے تعلق رکھتے ہیں تو کس حد تک آپ ان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں یہ سوال ہے۔اگر آپ کا خدا سے تعلق نہ ہو تو آپ کا وجود بالکل بے معنی اور بے حقیقت ہے اور دوسرے بنی نوع انسان کو اگر آپ اپنا خلق بخشنا شروع کریں، اپنی صفات عطا کرنا شروع کریں، تو وہ بے معنی بات ہے کیونکہ ان کا کوئی اعتبار نہیں۔وہ آپ کی تمدنی صفات ہیں ، آپ کی قومی صفات ہیں، آپ کو جو نسل عطا ہوئی ہے، اس نسل کی کچھ صفات ہوں گی ، کچھ آپ کی تہذیبی صفات ہوں گی۔آپ وہ صفات اگر دوسروں میں جاری کریں تو اس کا کوئی مقصد نہیں ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی صفات اگر آپ کے اندر جاری ہوں تو پھر آپ خدا کی صفات کو دوسرے میں جاری کریں تو پھر ایک اعلیٰ مقصد ہے اور یہی مذہب کا اولین مقصود ہے جسے ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔پہلے خدا والا بنیں پھر خدا والے بنانے کی کوشش کریں۔اس کے بغیر دعوت الی اللہ کا مضمون بے معنی ہے صرف تعداد بڑھانے والی بات ہے اور محض تعداد بڑھانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔پس اس مضمون کو سمجھنے کے بعد آپ کو خوب اچھی طرح یہ حقیقت معلوم ہو جائے گی کہ کس حد تک آپ پاک تبدیلی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔جتنی تبدیلی آپ اپنے اندر کرتے ہیں اتنی ہی آپ میں اہلیت ہے پاک تبدیلی پیدا کرنے کی۔جو تبدیلی آپ کے اندر نہیں ہوئی وہ آپ غیروں میں کیسے کر سکتے ہیں۔اس لئے اپنے نفوس کا محاسبہ انتہائی ضروری ہے اور تجزیہ کے طور پر ایک ایک اپنی صفت پر، ایک ایک عادت پر نظر رکھنی ہوگی۔جو جو آپ کی صفت خدا کے تابع ہوتی چلی جائے ، جو جو عادت اللہ والوں کی عادت بنتی چلی جائے ، اس حد تک ان صفات اور ان عادات میں آپ بنی نوع انسان کو اپنے جیسا بنانے کی کوشش کریں تو یہ ایک نیک مقصد ہے۔اور اگر اس کے بغیر اپنی صفات کو جاری کریں تو بجائے اس کے کہ آپ بنی نوع انسان کے لئے فلاح اور نجات کا موجب بنیں آپ بنی نوع انسان کی ہلاکت کا موجب بھی بن سکتے ہیں۔دنیا کے اثرات تو آپ نے دیکھے ہیں۔بڑی قومیں اپنی