مشعل راہ جلد سوم — Page 411
مشعل راه جلد سوم 411 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی طور پر ہی کوئی ہوگا۔ورنہ جتنی لمبی نالی سے گولی چلائی جائے اتنی دیر تک سیدھی رہتی ہے۔خدام کی حد تک اگر تربیت کی نالی لمبی ہو جائے تو خدا کے فضل سے پھر موت تک وہ انسان سیدھا ہی چلے گا الا ماشاء الله _ تو اس پہلو سے بہت ضروری ہے کہ نظام کا احترام سکھایا جائے۔پھر اپنے گھروں میں کبھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے نظام جماعت کی تخفیف ہوتی ہو یا کسی عہدیدار کے خلاف شکوہ ہو۔وہ شکوہ اگر سچا بھی ہے پھر بھی اگر آپ نے اپنے گھر میں کیا تو آپ کے بچے ہمیشہ کیلئے اس سے زخمی ہو جائیں گے۔آپ تو شکوہ کرنے کے باوجود اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن آپ کے بچے زیادہ گہرا زخم محسوس کریں گے۔یہ ایسا زخم ہوا کرتا ہے کہ جس کو لگتا ہے اسکو کم لگتا ہے۔جو قریب کا دیکھنے والا ہے اس کو زیادہ لگتا ہے۔اس لئے اکثر وہ لوگ جو نظام جماعت پر تبصرے کرنے میں بے احتیاطی کرتے ہیں انکی اولادوں کو کم و بیش ضرور نقصان پہنچتا ہے اور بعض ہمیشہ کے لئے ضائع ہو جاتی ہیں۔واقفین بچوں کو نہ صرف اس لحاظ سے بتانا چاہیے بلکہ یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ اگر تمہیں کسی سے کوئی شکایت ہے خواہ تمہاری تو قعات اس کے متعلق کتنی عظیم کیوں نہ ہوں ، اس کے نتیجہ میں تمہیں اپنے نفس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔اگر کوئی امیر جماعت ہے اور اس سے ہرانسان کو توقع ہے کہ یہ کرے اور وہ کرے اور کسی توقع کو اس سے ٹھوکر لگ جاتی ہے تو واقفین زندگی کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ ان کو یہ خاص طور پر سمجھایا جائے کہ اس ٹھوکر کے نتیجہ میں تمہیں ہلاک نہیں ہونا چاہیے۔یہ بھی اسی قسم کے زخم والی بات ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔یعنی در اصل ٹھو کر تو کھاتا ہے کوئی عہدیدار اور لحد میں اتر جاتا ہے دیکھنے والا۔وہ تو ٹھوکر کھا کر پھر بھی اپنے دین کی حفاظت کر لیتا ہے۔اپنی غلطی پر انسان استغفار کرتا ہے اور سنبھل جاتا ہے وہ اکثر ہلاک نہیں ہو جایا کرتا سوائے اس کے کہ بعض خاص غلطیاں ایسی ہوں۔لیکن جن کا مزاج ٹھوکر کھانیوالا ہے وہ ان غلطیوں کو دیکھ کر بعض دفعہ ہلاک ہی ہو جایا کرتے ہیں، دین سے ہی متنفر ہو جایا کرتے ہیں اور پھر جراثیم پھیلانے والے بن جاتے ہیں۔مجلسوں میں بیٹھ کر جہاں دوستوں میں تذکرے ہوتے ہیں وہاں کہہ دیا۔جی فلاں صاحب نے تو یہ کیا تھا اور فلاں صاحب نے یہ کیا تھا۔اس طرح وہ ساری قوم کی ہلاکت کا موجب بن جاتے ہیں۔تو بچوں کو پہلے تو اس بلا سے محفوظ رکھیں۔پھر جب ذرا بڑی عمر کے ہوں تو ان کو سمجھائیں کہ اصل محبت تو خدا اور اس کے دین سے ہے۔کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے خدائی جماعت کو نقصان پہنچتا ہو۔آپ کو اگر کسی کی ذات سے تکلیف پہنچی ہے یا نقصان پہنچا ہے تو اس کا ہر گز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ کو حق ہے کہ اپنے ماحول، اپنے دوستوں، اپنے بچوں اور اپنی اولاد کے ایمانوں کو بھی آپ زخمی کرنا شروع کر دیں۔اپنا زخم