مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 37

37 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم میں بھی آپ کے ساتھ لطف اٹھاؤں گا۔بہر حال احمدیت کے قافلہ کو ہر منزل میں قدم آگے بڑھانے چاہئیں۔ہر میدان میں آگے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔پس ایک یہ لائن ہے جس میں قریباً صفر کے برابر حال ہے۔کوئی اپنی لائن میں یا اپنے مضمون میں غیر دنیا پر سبقت لے جانے کی کوشش ہی نہیں کر رہا۔اب مثلاً آرکیٹکٹ ہیں۔میں نے بیرونی دنیا میں دیکھا ہے آرکیٹکٹ بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور ایسے ایسے عجیب نقشے بنا رہے ہیں کہ ان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پہلے دماغ میں یہ نقشہ کیوں نہیں آیا۔Genius کی ایک بڑی اچھی تعریف یہ کی گئی ہے۔ایک تعریف کے مطابق Genius اس کو کہتے ہیں جو Obvious بات کو محسوس کر رہا ہے ، جس کو دنیا کا کوئی آدمی محسوس نہ کرتا ہو۔ہو Obvious لیکن اور کسی کو نہ پتہ لگے، اس کو پتہ لگ جائے۔تو ایسی Obvious باتیں ہیں۔بعض زاوئیے صرف بدلے ہیں۔اس سے عمارت کی کیفیت ہی پلٹ گئی ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ انجینئر ز نے پہلے کیوں نہیں یہ زاویئے سوچ لئے۔ماحول سے Ideas سیکھیں پس جس کا دماغ زندہ رہے گا تازہ تازہ مضمون اس میں پڑتے رہیں گے۔وہی کامیاب ہوگا۔لیکن اگر سو جائیں جس طرح بعض دوست تقریب میں اس سے پہلے جوانٹروڈکشن ہوئی تھی اس میں سورہے تھے تو ان بیچاروں کو کیا پتہ لگے گا کہ کیا اعداد وشمار پڑھے جا رہے ہیں اور کیا ہورہا ہے۔اس لئے زندگی میں بھی باشعور رہیں۔جاگتے ہوئے وقت گزار ہیں۔ماحول کو دیکھیں اس سے Ideas سیکھیں۔پھولوں کو دیکھیں ان سے حسن سیکھیں حسن کی ادائیں معلوم کریں حسن میں ایک رنگوں کا امتزاج ہے جو بہت بڑا کردارادا کرتا ہے تو آرکیٹکٹ رنگوں کی آمیزش کو پھولوں سے سیکھ سکتا ہے۔تتلیوں سے سیکھ سکتا ہے۔نئے نئے تجربے کر سکتا ہے۔جرات ہونی چاہیے۔نئے تجر بہ کے لئے دل میں لگن ہونی چاہیے پھر سب کچھ ممکن ہے۔ہر مضمون میں جتنے بھی شعبے ہیں وہ سب میرے پیش نظر ہیں۔ایسا لگتا ہے بس سوئے سوئے سے زندگی گذار رہے ہیں۔اپنے دفتر میں روز مرہ کا کام کیا۔گھر واپس آگئے اور سمجھ لیا کہ سارا کام ٹھیک ہو گیا۔یہ زندگی نہیں ہے۔