مشعل راہ جلد سوم — Page 36
36 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم احمدی کو تو فیق ملی اور تھوڑ اسا قدم اٹھایا۔تھوڑے قدم آگے برکتوں کا موجب بنتے ہیں۔آپ کو یہ تو کوئی نہیں کہہ رہا کہ ایک دم موٹر کار بنانے لگ جائیں اور وہ بھی رولز رائس بنانی شروع کر دیں۔کیونکہ اس پر بڑا وقت لگے گا۔لیکن اگر آپ ایک ٹائر بنانا بھی سیکھ جائیں تو بڑی چیز ہے۔لیکن کچھ نہ کچھ بنانا شروع کریں۔شروع کئے بغیر منزل آگے طے نہیں ہوسکتی۔جو گھر میں بیٹھا ہوا ہے اس بیچارے نے کیا کرنا ہے۔جس نے Attempt یعنی ہمت اور کوشش کی ہو اس کو کچھ ملتا بھی ہے۔اگر کوئی Attempt ہی نہ کرے تو اسے کیا حاصل ہوسکتا ہے۔یہ تو ویسے ہی بات ہے جس طرح حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے ایک دفعہ واقعہ سنایا کہ میرے پاس عربی کے پرچے آیا کرتے تھے۔ایک صاحب دس بارہ سال سے امتحان دے رہے تھے ، ہر دفعہ فیل ہو جاتے تھے۔اور پر چہ میں ان کا پہچانتا تھا۔پرچہ دیکھتے ہی مجھے پتہ لگ جا تا تھا کہ اس بیچارے کا پر چہ آ گیا ہے۔کہتے ہیں آخری دفعہ جو پر چہ آیا اس پر اس نے ایک بہت ہی درد ناک کہانی لکھی اور اس نے کہا کہ خدا کے واسطے جس طرح بھی ہو صدقہ رسول کا دیتا ہوں جو مرضی کریں مگر مجھے اس دفعہ پاس ضرور کر دیں ورنہ میں گیا۔تو حضرت میاں صاحب فرماتے تھے کہ میں نے سوچا کہ اب اگر اس کو میں پاس کروں۔نمبر کھلے دے دوں۔اور باقیوں کو نہ دوں تو پھر یہ نا انصافی ہو جائے گی۔تو میں اس کی خاطر سارا ہاتھ کھلا کر لیتا ہوں۔چنانچہ میں نے سب کے لئے ہاتھ کھلا کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے پرچہ کی نمبرنگ شروع کی۔کمز ور بھی تھا اس کو 10/10 نمبر دینے شروع کیے۔اب پاس ہونے کے لئے کل پچاس نمبر چاہئیں تھے اس نے 23 نمبر کا پرچہ Attempt کیا ہوا تھا۔فرماتے ہیں بڑی مصیبت میں پڑ گیا کہ اب کروں تو کیا کروں۔23 نمبر میں سے 50 تو میں نہیں دے سکتا تھا۔پس ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کوشش ہی نہیں کرتے۔ظاہر ہے جو آدمی Attempt ہی نہ کرے اس کے لئے آگے رستہ کیسے نکل سکتا ہے اس لئے آپ Attempt تو کریں۔کوئی خراب چیز بنائیں۔کچھ کمزور بنا ئیں۔دوسروں سے ناقص بنالیں لیکن احمدی کی بنی ہوئی چیز ہو دیکھ کر مزا تو آئے۔آپ نے بچوں کو نہیں دیکھا وہ اپنی روٹی پکاتے ہیں۔جلی ہوئی بھی ہو تو بڑے شوق سے کھا لیتے ہیں اور ماں باپ کی اچھی پکی ہوئی روٹی میں کیڑے نکالتے ہیں اور ایسی روٹی بھی جو کچی ہو یا جلی ہوئی ہو عموماً ان کی ایسی ہی ہوتی ہے کچھ کچی ہوتی ہے کچھ جلی ہوئی ہوتی ہے اور ماں باپ منع کرتے رہتے ہیں کہ پیٹ میں درد ہو گا ) پھر بھی وہ کھاتے ہیں اور کہتے ہیں بہت اچھی پکی ہوئی ہے اور پھر زبر دستی ماں باپ کو بھی کھلاتے ہیں۔تو آپ کچی یا جلی جیسی بھی ہو کچھ کریں تو سہی اور ساتھ مجھے بھی دکھا ئیں