مشعل راہ جلد سوم — Page 29
مشعل راه جلد سوم 29 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی آگے بڑھنے کی طاقت رکھتا ہے۔گو ہر شخص کی استعداد میں الگ الگ ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ برابر استعدادوں کے باوصف اگر ایک احمدی کوشش کر رہا ہو اور اس کا ساتھی بھی کوشش کر رہا ہو تو احمدی ان دعاؤں کے طفیل اپنے ساتھی کی نسبت زیادہ قوت اور تیزی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے کیونکہ دوسرے کے مقدر میں یہ خوش بختی ابھی نہیں آئی۔دیانتداری اور تقویٰ کے معیار کو بلند کریں ا دوسرے میں پہلے بھی بار بار یہ اظہار کر چکا ہوں کہ اگر احمدی دیانتداری اور تقویٰ کے معیار کو بلند کرے اور جس جگہ بھی وہ متعین ہے وہاں اپنے فن میں دیانتداری کا مظاہرہ کرے اور اپنے انتظام میں دیانتداری کو مدنظر رکھے تو اس سے بھی اس کو ایک چلا ملے گی کیونکہ تقویٰ سے ایک نور پیدا ہوتا ہے۔تقویٰ ہی روشنی کا دوسرا نام ہے۔تقویٰ کے نتیجہ میں انسانی قومی میں عدل پیدا ہوتا ہے اور نشو ونما کے لئے قومی کا عدل ضروری ہے۔سچائی اور انصاف کو ہم تقویٰ بھی کہہ سکتے ہیں۔ان کا نام عدل بھی ہے اور جب بھی کوئی نظام اعتدال پر آجائے تو اس میں نشو ونما کی قو تیں پیدا ہو جاتی ہیں۔چنانچہ سچائی کے نتیجہ ہی میں سائنس نے ترقی کی ہے۔جھوٹا دماغ سائنس میں ترقی نہیں کرسکتا۔سائنس کی بنیاد اور سائنسی ترقی کے دروازہ میں داخل ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان دنیا کے پیمانے میں متقی ہو جائے۔دنیا کے پیمانے میں متقی کی تعریف بعض پہلوؤں سے تو مختلف ہوتی ہے لیکن بنیادی طور پر وہی ہے جو عام طور پر سمجھی جاتی ہے یعنی انسان سچ بولے۔وہ خوش فہمیوں میں مبتلا نہ ہو۔تصورات کی دنیا میں نہ رہے۔کہانیوں میں بستا نہ ہو بلکہ واقعات اور سچائیاں اس کی انگلی پکڑ کر جس طرف لے جائیں خواہ طبیعت چاہے یا نہ چاہے وہ اس طرف چلا جائے۔یہ عام انسانی تقوی کی تعریف ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اسی تعریف کو بالآخر ہدایت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔قرآن کریم میں تقویٰ کی جو پہلی تعریف ملتی ہے بلکہ اپنے مقام کے لحاظ سے بھی پہلی ہے۔یہ ایسی تعریف ہے جو تمام انسانوں کے درمیان مشترک ہے۔یعنی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقره: 3) یہ ہدایت صرف متقیوں کے لئے ہے۔اگر متقیوں سے مراد مذہبی تعریف لی جائے تو ان کے لئے ہدایت کا کیا مطلب ہے وہ تو پہلے ہی ہدایت یافتہ ہیں۔پس اس کے معنی یہ ہیں کہ یہاں عام تقویٰ کی