مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 245

مشعل راه جلد سوم 245 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ گئے ہیں وہ ان کو بھی پورا کرنا شروع کریں، اس طرح ان کا کام اور ذمہ داری دوہری ہو جاتی ہے۔ان کو چاہیے کہ وہ موجودہ وقت کی ذمہ داریاں بھی پوری کریں اور گزشتہ گزرے ہوئے وقت کے خلا بھی پورے کریں۔انصار اپنے ساتھیوں کو بتا بتا کر اس طرح بیدار کریں کہ اُن کو اپنی فکر پیدا ہو۔وہ انہیں بتائیں کہ وَلَتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَد کی آیت تم پر سب سے زیادہ اطلاق پاتی ہے تمہیں کل کے لئے فکر کرنی چاہیے کہ تم نے کیا آگے بھیجا ہے۔وہاں غد کا معنی روز قیامت بن جائے گا۔سوال وجواب اور محشر کا وقت بن جائے گا، اس لئے ان کو بیدار کریں جگائیں اور کہیں کہ اگر تم اپنے گھروں میں نماز قائم کئے بغیر آنکھیں بند کر گئے تو کتنا حسرت ناک انجام ہوگا، بے نمازی نسلیں جو اپنے مقصد سے عاری ہیں جن کو خدا نے پیدا تو کسی اور غرض سے کیا تھا اور وہ کسی اور طرف رخ اختیار کر چکی ہیں وہ پیچھے چھوڑ کر جارہے ہو تمہارے ہاتھ بالکل خالی ہیں، وہاں پیش کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا، خدا کو کیا جواب دو گے کہ جوامانت اس نے تمہارے سپر د کی تھی تم نے ان کو کیا سے کیا بناڈالا ، کیسے حال میں انہیں پیچھے چھوڑ کر آئے ہو۔اس رنگ میں انہیں بیدار کریں، خاص تعہد کے ساتھ اپنا پروگرام ایسا بنا ئیں کہ پھر ان کو سونے نہ دیں۔معین پروگرام کی اہمیت تنظیمیں نسبتاً زیادہ بیدار رہ سکتی ہیں اگر وہ ایک معین پروگرام بنائیں کہ ہر ہفتے یا ہر مہینے میں ایک دفعہ خاص نماز کے موضوع پر غور کرنے کے لئے اکٹھے مل کر بیٹھا کریں گے، ہمیشہ کے لئے مجلس عاملہ کا ایک اجلاس مقرر ہو جائے جس کا موضوع سوائے نماز کے کچھ نہ ہو۔اس دن لجنہ بھی نماز پر غور کر رہی ہوں۔خدام بھی نماز پر غور کر رہے ہوں، انصار بھی نماز پر غور کر رہے ہیں۔سب اپنی اپنی جگہ ہمیشہ کے لئے یہ فیصلہ کر لیں کہ اب ہم نے ہر مہینہ میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور اس موضوع پر بیٹھ کر غور کرنا ہے۔جہاں حالات ایسے ہیں کہ ہر مہینے اکٹھے نہ ہو سکتے ہوں۔وہاں دو مہینے میں ایک اجلاس مقرر کر لیں، تین مہینے میں مقرر کرلیں مگر جب مقرر کر لیں پھر اس پر قائم رہیں، اس پر صبر دکھا ئیں ہر دفعہ جائزہ لیا کریں کہ ہمیں اس عرصہ میں کتنا فائدہ پہنچا ہے اس عرصے میں کتنے نئے نمازی بنے ہیں۔کتنوں کی نمازوں کی حالت ہم نے درست کی۔کتنوں کو نماز میں لطف حاصل کرنے کے ذرائع بتائے اور ان کی مدد کی۔اور بہت سے پہلو ہیں وہ ان سب پہلوؤں پر غور کیا کریں اور ہر دفعہ اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کچھ مزید حاصل کر سکے ہیں یا نہیں۔اگر اس جہت سے اس طریق پر وہ کام شروع کریں گے تو امید ہے کہ ہم بہت تیزی کے