مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 231

مشعل راه جلد سوم 231 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی ایک بچی کی تقریب آمین پر حضور رحمہ اللہ نے فرمایا :- آج کا روز بھی جسے ہم بہت اہمیت دیتے ہیں اس وجہ سے کہ ہمارے بچے نے قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کی الہامی کتاب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی خدا کے فضل سے مکمل کر لی اور اس موقع پر کوئی تصنع کوئی بناوٹ اور بے معنی خوشی نہیں ہے۔بلکہ بچے سے قرآن کریم کا ایک حصہ سن لیا، اجتماعی دعا کر لی اور چائے کے ساتھ کچھ مٹھائی وغیرہ کھالی۔اس تقریب کا نہایت اہم اور ضروری حصہ دعا ہے نہ کہ تحفے تحائف دینا اور لینا اور یہی ہم اپنے بچے کو بھی سکھانا چاہتے ہیں۔آج بھی یہاں جو مہمان آئے ہیں وہ بھی بغیر تحائف کے آئے ہیں۔یہ رسم ہم میں داخل ہونا شروع ہوگئی تھی اس لئے گزشتہ اسی قسم کے ایک موقع پر میں نے جماعت کو تحائف دینے پر اس وجہ سے پابندی لگا دی تھی تا کہ ہماری سوسائٹی پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑنے شروع ہو جائیں۔کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی رسوم جو بظاہر نقصان دہ نہیں لگتیں اور لوگ کہتے ہیں کہ بچے کو ایک چھوٹا سا تحفہ دینے میں کون سی قباحت ہے، لیکن آہستہ آہستہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہمیں اندھیروں کی طرف دھکیل دیتی ہیں اور یہی چیز پھر تصنع میں تبدیل ہو جاتی ہے اور خواہ کوئی اسے برداشت کر سکے یا نہ، وہ اسے ضروری سمجھنے لگ جاتے ہیں۔چنانچہ میں نے اس رواج کو مزید فروغ دینے پر پابندی عائد کر دی۔اور مجھے یہ جان کر نہایت خوشی ہوئی کہ اس چھوٹی سی معصوم بچی نے جسے گزشتہ موقع پر تھے دیئے گئے، ہنستے مسکراتے ہوئے واپس لوٹا دیئے۔لہذا بجائے اس کے کہ ہم بچوں کو تحائف وغیرہ جیسی رسوم میں ملوث کر دیتے ان کی توجہ دعاؤں کی طرف مبذول کروا دی تا کہ وہ تحائف کی نسبت دعا کو زیادہ اہمیت دیں اور اس کی اہمیت کو سمجھنے لگیں اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر وہ بے صبری سے تحفوں کی امید میں ہی لگے رہتے ہیں۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: