مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 173

مشعل راه جلد سوم 173 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ہر مذہب خدا تک نہیں لے جاسکتا لیکن جب ہم مذاہب کو دیکھتے ہیں اور ان کی تعلیمات پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر مذہب میں خدامل ہی نہیں سکتا۔کیونکہ مذاہب کا آپس میں بھی بہت گہرا اختلاف ہے۔کوئی خدا کا کچھ تصور پیش کرتا ہے اور کوئی کچھ اور تصور پیش کرتا ہے۔پھر بچے خدا کا سوال پیدا ہوگا وہ کہاں ہے۔کیونکہ بعض مذاہب خدا کی طرف بات منسوب کر کے کہتے ہیں کہ گویا خدا کہتا ہے کہ میں ایک سے زیادہ ہوں۔میں لاکھوں ہوں، تم لاکھوں چیزوں کی پوجا کر وتب تم مجھے ملو گے۔ایک اور مذہب کہتا ہے کہ نہیں میں صرف ایک ہوں۔لاکھوں نہیں ہوں۔قانونِ قدرت دیکھو۔ہر جگہ میں ہی نظر آؤں گا۔میرے مظاہر نظر آئیں گے۔دو خداؤں کی مخلوقات نظر نہیں آئیں گی۔اس لئے میں اکیلا خدا ہوں، مجھے مانو۔اب ظاہر ہے دونوں مذہب ایک وقت میں تو سچے نہیں ہو سکتے۔ایک یہ کہے کہ میں لاکھوں خدا ہوں اور ایک کہے کہ میں ایک خدا ہوں۔مثلاً یہودیت کہتی ہے ایک خدا ہے اور عیسائیت کہتی ہے نہیں، تین ہو گئے۔شروع میں ایک خدا تھا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے آنے کے بعد تین خدا ہو گئے۔یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس۔اب یہ باتیں ایک وقت میں تو بچی نہیں ہوسکتیں کہ خدا ایک بھی ہو اور تین بھی ہوں۔ایک بھی ہو اور ہزار بھی ہوں۔پھر تعلیم میں اتنا فرق پڑ جاتا ہے۔مثلاً ایک مذہب کا خدا کہتا ہے۔میں یہاں کے سوا کہیں نہیں ہوں۔دوسرے مذہب کا خدا کہتا ہے کہ میں یہاں کے سوا اور کہیں نہیں ہوں۔اب بتائیے ! آپ کو ہر مذہب میں خدا کہاں سے مل جائے گا؟ اس لئے یہ تو صحیح ہے کہ خدا ہر جگہ موجود ہے لیکن یہ کہنا غلط اور جھوٹ ہے کہ ہر مذہب خدا تک لے جاتا ہے۔جائیں تو جائیں کہاں اب مشکل یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہر مذہب کا خدا الگ الگ باتیں کر رہا ہے۔جب اپنے متعلق بات الگ الگ کرتا ہے اور جس خدا کو یہ بھی پتہ نہیں کہ میں کون ہوں وہ سچا خدا کہاں سے ہو گیا۔یا ایک مذہب میں کہتا ہے میں ایک ہوں۔دوسرے میں یہ کہتا ہے میں تین ہوں۔تیسرے میں کہتا ہے میں پندرہ میں ہوں۔چوتھے میں کہتا ہے میں کئی ہزار ہوں تو اب ہم کس کی بات مانیں۔صاف پتہ لگا کہ ہر بات کچی نہیں ہے ایک ہی بچی ہوگی۔اس لئے پھر وہی مشکل در پیش۔ہمیں اس سوال کا کوئی حل تو نہ ملا۔پھر ہم