مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 87
87 فرموده ۱۹۶۸ء دو مشعل راه جلد دوم خلاصہ سورۃ فاتحہ کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے۔تمہارا جو دعویٰ بھی ہو تم اسے اپنی کتب سے ثابت کرو اور میرا جود عولی بھی ہو گا میں اسے سورۃ فاتحہ سے ثابت کروں گا۔شروع میں تو اس نے بڑی تیزی دکھائی لیکن جب میں نے یہ بات کی تو اس کا چہرہ زرد ہو گیا اور اس سے کوئی بات بن نہ آئی۔غرض جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ( عقلی اور نقلی دونوں قسم کے دلائل کا ) وہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ دیئے ہیں اور وہ اس قدرز بر دست دلائل ہیں۔دشمن اسلام ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اور لاکھوں انسان ایسے ہیں جو ان سے متاثر ہو چکے ہیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کے باوجود دنیا اسلام اور احمدیت کی طرف متوجہ نہیں ہورہی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے اعمال میں اس مقام تک نہیں پہنچے جس مقام تک جماعت کو پہنچنا چاہیئے۔جب تک دنیا کے سامنے ہم اسلام کا عملی نمونہ نہیں رکھتے۔ہم دنیا کو اسلام اور احمدیت کی طرف کھینچنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس لئے میں اس وقت اپنے بچوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تقاریر تو آپ بہت سنتے ہیں۔ان کے مواقع بھی آپ کو میسر آتے ہیں۔آپ میں سے اکثر ایسے ہیں جو اغلباً جلسہ سالانہ میں شریک ہوتے ہوں گے۔آپ کے اپنے علاقہ میں یا جماعت میں یا قصبہ شہر اور دیہات میں سال دوران مختلف تقریریں ہوتی رہتی ہیں۔جو آپ سنتے ہیں۔مثلاً اس کلاس میں تو آپ آئے ہوئے ہی ہیں۔آپ میں سے بعض یا آپ کے بہت سے بھائی قرآن کریم کی اس کلاس میں بھی شامل ہوں گے۔جو جماعت کی طرف سے غالباً جولائی کے مہینہ میں منعقد ہوتی ہے۔غرض بیسیوں مواقع آپ کو اسلام کی تعلیم سنے اور اسلام کے حق میں مضبوط دلائل کو سننے کے مواقع میسر آتے ہیں لیکن اگر آپ سنیں تو سہی مگر کریں نہ۔آپ کا ذہن ان دلائل کو یاد بھی رکھے۔آپ امتحانوں میں کامیاب بھی ہو جائیں لیکن آپ کا عملی نمونہ اسلام کے مطابق نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق نہ ہو تو پھر اس سننے کا کیا فائدہ۔سننا یا نہ سننا برابر ہو جاتا ہے۔آپ کو اپنے عمل سنوارنے کی طرف پوری توجہ دینی چاہیئے۔مجھ سے بہت سے دوست ملتے ہیں۔احمدی بھی اور دوسرے بھی اور جو ابھی احمدی نہیں ہوئے وہ مجھ سے یہی کہتے ہیں کہ قوم کی عملی حالت درست کرنے کیلئے کیا کیا جائے مثلا دیانت داری ہے۔اسلام نے دیانت داری ر بڑا زور دیا ہے۔اور رزق حلال کو ضروری قرار دیا ہے اور ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ جب تک رزق حلال ہمارے جسموں کا حصہ نہ بنے اس وقت تک ہم اعمال صالحہ بجا نہیں لا سکتے۔لیکن ہمارے ملک میں دیانت کی طرف توجہ نہیں، اس کی وہ قدر نہیں جو ہونی چاہئے۔پھر اس کے بدنتائج جو اس دنیا میں ہمارے لئے دوزخ پیدا کر رہے ہیں ان کی واقفیت نہیں یا اس دوزخ پر ہم راضی ہو جاتے ہیں حالانکہ اگر ہم دیانتداری سے کام لیں ، اگر قوم کا ہر پیسہ بیح مصرف میں خرچ ہو تو اس ملک کی شکل ہی بدل جائے اور دنیا کیلئے ہم اور ہمارا ملک ایک نمونہ بن جائے۔لیکن ہمیں صرف اور صرف ملک ہی کی فکر نہیں۔ہم نے تو ساری دنیا کو صیح اسلامی معاشرہ میں لے کر آنا ہے اور اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ لوگ جو اس وقت سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہیں یا وہ بچے جو احمدیت میں پیدا ہوئے ہیں اور