مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 86 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 86

دومشعل دوم فرموده ۱۹۶۸ء 86 ۲۶ را پریل ۱۹۶۸ ء سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ساڑھے پانچ بجے شام ایوان محمود ( ہال مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان مرکز یہ ) مجلس خدام الاحمدیہ کی پندرھویں تربیتی کلاس کا افتتاح فرمایا۔حضور نے کلاس میں شامل ہونے والوں کو جو خطاب فرمایا اس کا متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔( غیر مطبوعہ ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔اس وقت جو مختصر سی رپورٹ آپ کے سامنے پڑھی گئی ہے۔اس کلاس کے تدریجی تنزل کی تصویر بڑی نمایاں ہمارے سامنے آئی ہے۔وہ عہدیدار ( ضلع یا مقام کے جو عملاً اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھاتے انہیں اپنے کاموں سے فارغ کر دینا چاہیئے اور مستعد خدام سامنے آنے چاہیں جو نمائش کی بجائے کام کے عادی ہوں اور کام کر کے دکھانے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بڑے زبر دست اور بڑے روشن دلائل ہمارے ہاتھ میں دیئے ہیں۔اور وہ اس قدر زبر دست اور مؤثر ہیں کہ جہاں تک عقائد کا سوال ہے دنیا میں ایک عظیم تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔لاکھوں آدمی پاکستان میں ایسے موجود ہیں جو ان عقائد کی وجہ سے ان دلائل کے زیر اثر اپنے عقیدوں کو جن پر وہ پہلے قائم تھے بدل چکے ہیں اور اس حد تک وہ احمدی ہو چکے ہیں۔اتنا ز بر دست اثر ہے ان دلائل کا کہ ابھی چند ہفتوں کی بات ہے کہ مشرقی افریقہ کے ایک چھوٹے سے بچے (جو ابھی خادم بھی نہیں۔اطفال میں ہے ) کا خط مجھے ملا اس نے لکھا کہ میں ایک جگہ لٹریچر ( کتب رسائل وغیرہ جو مفت تقسیم کرنی چاہئیں تقسیم کر رہا تھا۔وہ لٹریچر فروخت بھی کرتا ہے اور بڑا مخلص اور جوشیلا احمدی بچہ ہے ) کہ ایک بڑی عمر کا عیسائی وہاں سے گذرا۔میں نے اسے کوئی کتاب دی ( وہ اپنے سلسلہ کی کتب یا رسائل میں سے کوئی ایک تھی مجھے اس وقت اس کا نام یاد نہیں) تو اُس نے وہ کتاب اپنے ہاتھ میں لی اور اسے دیکھا اور پھر ( اُس بچہ کو ) کہنے لگا کہ تم احمدی ہو میں نے جواب دیا کہ ہاں میں احمدی ہوں۔اُس کے جواب میں اُس نے کہا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں کیتھولک عیسائی ہوں اور ہمیں یہ ہدایت ہے کہ احمدیت کی کوئی کتاب نہیں پڑھنی اور کسی احمدی سے بات نہیں کرنی۔اب دیکھ لو اس عیسائی کا مخاطب دس گیارہ سال کا بچہ تھا مگر وہ اس سے بات کرنے کی جرات نہ کر سکا۔پس یہ حقیقت ہے کہ عیسائی دنیا میں ہمارے دلائل کی تاب نہیں لاسکتی۔پرسوں ہی ایک خط انگلستان سے آیا ہے۔ایک دوست نے لکھا ہے کہ میں ایک گرجا میں گیا۔اور میں نے پادری کو علیحدہ کر کے اس سے کہا کہ قرآن کریم بڑی عظیم کتاب ہے اس کے شروع ہی میں بہت سی آیات کا ایک