مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 70
مشعل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۶۷ء 70 د بھی اور جو چیک کرتے ہیں سامان کو ان کا بھی ) اتنا خراب ہے کہ وہ بعض دفعہ لوگوں کو تنگ بھی کرتے ہیں۔ان کو جب کہا گیا کہ جماعت احمدیہ کے امام آ رہے ہیں تم انہیں کچھ سہولتیں دو تو وہاں کا جو انچارج تھا اس نے کہا ایسا انتظام نہیں ہوسکتا۔اس کی اطلاع ہمیں ڈنمارک میں ملی جہاں مسجد کا افتتاح ہوا تھا۔آپ سب جانتے ہیں کہ کوپن ہیگن ( جوڈنمارک کا دارالخلافہ ہے ) میں آپ کی ماؤں اور بہنوں کے چندوں سے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک مسجد کی تعمیر کی جماعت احمدیہ کو تو فیق عطا کی ہے۔اس مسجد کا افتتاح ۲۱ جولائی کو ہوا تھا۔وہاں ہمارے سارے مبلغ بھی جمع ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ پریشانی ہے کہ کہیں ہمیں وہاں ٹھہرنا نہ پڑے۔وہ ہمیں تنگ کریں گے اگر آدھا گھنٹہ امیگریشن والے لگا دیں اور گھنٹہ بھر کٹم والے لگا دیں تو ڈیڑھ گھنٹہ ہمیں وہاں ٹھہرنا پڑے گا اور آپ کو تکلیف ہوگی۔ہم بڑے پریشان ہیں۔محکمہ والوں کو کہا گیا تھا کہ آپ کچھ سہولتیں مہیا کر دیں۔لیکن انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح دوسرے لوگ آتے ہیں اسی طرح امام جماعت احمد یہ بھی آئیں گے۔اور جو ہم نے کرنا ہوا وہ ہم کریں گے۔اسی وقت میری طبیعت دعا کی طرف مائل ہوئی اور میں نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بتایا کہ تمہاری کوششیں سب ناکام ہو جائیں گی لیکن میں انتظام کر دوں گا میں نے انہیں کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بشارت دی ہے اب دیکھیں وہاں کیا ہوتا ہے۔ہمارے مبلغ اپنے پیار کی وجہ سے فکر مند اور پریشان تھے اور کہتے تھے آپ کو ڈیڑھ گھنٹہ وہاں ٹھہر نا پڑا تو آپ کو تکلیف ہوگی۔اور جو احمدی وہاں کئی سو کی تعداد میں جمع ہیں ان کو بھی تکلیف ہوگی۔اور کوئی بات نہیں تھی لیکن یہ ایک پریشانی کی بات تھی۔لیکن میں نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ کتنا پیار کرنے والا خدا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی پریشانی تھی جس کی کوئی حقیقت ہی نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی خیال رکھا اور ایسا انتظام کیا کہ ہمیں کوئی پریشانی نہ ہو اور ایسا انتظام کیا جس کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔رپورٹ تھی کہ کوئی انتظام وہاں نہیں ہوسکا۔ہم ناکام ہو گئے ہیں۔بڑے بڑوں نے مل کر بات بھی کی لیکن کوئی انتظام نہ ہو سکا اور اللہ تعالیٰ اتنا قادر ہے کہ اس نے کہا میں انتظام کروں گا تم کیوں فکر کرتے ہو لیکن جب وہاں پہنچے تو ہر وہ انتظام وہاں موجود تھا جس کے نہ کرنے کا ان لوگوں نے وعدہ کیا تھا۔یعنی کہا یہ تھا کہ ہم یہ نہیں کریں گے وہاں ایروڈ رام پر جہاں جہاز ٹھہرتا تھا وہاں کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد جانا پڑتا تھا۔عمارتیں فاصلہ پر ہیں اور جانا بھی وہاں پیدل پڑتا ہے لیکن سیڑھی پر ہی میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ خدا کی شان۔وہاں کا رٹھہری ہوئی تھی وہ محکمہ والوں کی کا رتھی۔اس پر وہ (امیگریشن والے) ہمیں اس جگہ سے لے گئے جہاں جہاز ٹھہر نا تھا۔آج کل بہت سے لوگ انگلستان میں ناجائز طور پر بھی چلے جاتے ہیں اس لئے وہ احتیاط کرتے ہیں اور قانون کی پابندی کراتے ہیں۔وہ ہر ایک سے ایک جیسا سلوک کرتے ہیں۔بہر حال لوگوں نے جن کے متعلق خیال تھا کہ وہ بڑے اوٹ پٹانگ سوال کرتے ہیں اور وہ دیر لگائیں گے اور وہاں ٹھہر نا پڑے گا۔پریشانی ہوگی۔انہوں نے ایک احمدی ہی کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ پاسپورٹ لے آؤ۔ہم یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ امام جماعت احمد یہ ہمارے دفتر میں آنے کی تکلیف گوارا کریں۔تم جا کر پاسپورٹ لے آؤ۔مہریں لگواؤ اور واپس چلے جاؤ۔غرض وہاں خدا تعالیٰ کی یہ