مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 69 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 69

69 فرمودہ ۱۹۶۷ء دو مشعل راه جلد د۔دوم رکھنے والوں کی تسلی کا موجب بنتا ہے۔اور قرآن کریم بچوں کو بھی مخاطب کرتا ہے اور جب وہ بچوں کو مخاطب کرتا ہے تو انہیں وہ بچوں کی زبان میں سکھانا چاہیے۔میں آج دنیا کے ایک بہترین فلسفی کو جس زبان میں اور جن دلائل کے ساتھ قرآن کریم سمجھا سکتا ہوں اگر ان دلائل کے ساتھ اور اس زبان میں آپ کو سمجھا ؤں تو آپ سمجھیں گے نہیں۔کیونکہ آپ کو اتنا علم نہیں۔آپ کا بیک گراؤنڈ (Back Ground) یعنی پس منظر ویسا نہیں ہے۔لیکن اگر میں آپ سے قرآن کریم کی باتیں سہل زبان میں کروں تو آپ سمجھ سکتے ہیں اور آپ سمجھ جائیں گے۔مثلاً رب العلمین سورۃ فاتحہ میں ہے۔اگر میں اس کے فلسفہ میں جاؤں تو آپ میں سے بہت سے بچے ایسے ہیں جن کو کچھ بھی پتہ نہ لگے۔تھوڑے ہوں گے جن کو تھوڑا بہت پتہ لگ جائے گا۔لیکن اگر میں آپ کو یہ بتاؤں کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جن طاقتوں اور جن ذرائع کی ضرورت تھی وہ بھی اس نے پیدا کئے ہیں۔یہ کوئی ایسی بار یک چیز نہیں ہوگی جو آپ سمجھ نہ سکیں یہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے۔اس کی حکمت آپ کو آج سمجھ نہیں آئے گی لیکن اتنی بات آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ ہمارا اللہ رب ہے اس نے مجھے اور آپ میں سے ہر ایک کو پیدا کیا کہ آپ اس کے فضلوں کے وارث بنیں۔اور ان فضلوں کے وارث بننے کے لئے جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی مثلا دل کی ، دماغ کی ، آنکھوں کی کانوں کی علم سیکھنے کی، لکھنے کی ، پڑھنے کی وغیرہ وغیرہ وہ اس نے ہمیں دیدیں۔اور ہماری تربیت کرنے کے لئے اس نے ایسا انتظام کیا کہ اس کا پیار نئے سے نئے طریق سے ظاہر ہوتا رہے۔پرانی باتیں لوگ بھول جاتے ہیں۔ہماری جماعت میں سے اور آپ میں سے بھی بہت سارے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کچی خوا نہیں دکھا دیتا ہے یا جن کے گھر میں سچی خوا میں دیکھی جاتی ہیں اور والد یا والدہ بتاتے ہیں کہ ہمیں یہ خواب آئی اور یہ اس طرح پوری ہوئی۔آپ وہ خواب سن کر حیران ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اچھا اللہ تعالیٰ اتنی طاقت رکھنے والا اور اتنا علم رکھنے والا ہے۔طاقت رکھنے والا اس لئے کہ اس نے مثلاً یہ کہہ دیا کہ پندرہ سال بعد یہ بات ہو گی اور آپ کو تو آج شام تک کا پتہ نہیں۔ابھی ایک بڑا افسوسناک واقعہ ہوا ہے جو اس اجتماع سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں پل بھر کی خبر نہیں ہوتی۔ہمارے ایک بڑے مخلص نوجوان لائل پور کے تھے۔وہ بڑے شوق سے اس سالانہ اجتماع پر آنے کی تیاری کر رہے تھے لیکن ایک دن پہلے ریل کے ساتھ ان کی ٹکر ہوئی اور ان کا جسم قیمہ کی طرح ہو گیا۔تو دیکھو وہ اپنے دل میں بڑی امنگیں لئے ہوئے تھے۔بڑے مستعد اور شوق رکھنے والے نوجوان تھے۔وہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں اپنی ساری مجلس کو اجتماع پر لے کے جاؤں گا اور ہم اس میں اس طرح حصہ لیں گے۔پتہ نہیں کہ اس نے کیا کیا سکیمیں سوچی ہوں گی لیکن اس کو پتہ نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے لیکن دنیا کی کوئی چیز ہمارے خدا سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ہمیں آئندہ کی باتیں (چھوٹی بھی اور بڑی بھی) بتا تا ہے۔اور اس سے ہماری طبیعتوں میں بڑی بشاشت پیدا ہوتی ہے۔اس سفر کے دوران میں انگلستان کے متعلق ہمارے دوستوں کو کچھ فکر تھا کہ ان کا انتظام ( امیگریشن والوں کا