مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 63

63 فرمودہ ۱۹۶۷ء د و مشعل راه جلد دوم دد چنانچہ جیسا کہ تیرہ سو سال پہلے بتایا گیا تھا رمضان میں اسی تاریخ کو جو بتائی گئی تھی پہلے چاند کو گرہن لگا اور پھر اسی رمضان میں اسی تاریخ کو جو پہلے بتائی گئی تھی سورج کو گرہن لگا اور دنیا میں اندھیرا چھا گیا۔بہت سے لوگوں نے جب یہ نشان دیکھا تو انہوں نے احمدیت قبول کر لی اور انہوں نے سمجھا کہ یہی شخص (جس نے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا ہے ) محمد رسول اللہ کا وہ بچہ ہے جس کے ذریعہ سے اسلام نے ساری دنیا میں پھر غالب آنا ہے لیکن بعض طبیعتیں ضدی ہوتی ہیں انہوں نے کہا ہم اب بھی نہیں مانتے یہ حدیث ہی جھوٹی تھی۔لیکن اگر حدیث جھوٹی تھی تو چاند اور سورج کو گرہن کیسے لگا۔جو چیز جھوٹی ہوتی ہے یعنی جب ہم اسے جھوٹا کہتے ہیں تو وہ وہ چیز ہوتی ہے جو واقع نہ ہو اور جو واقع ہو جائے اس کو تو ہم جھوٹا نہیں کہتے۔اگر کوئی شخص شخص یہ وعدہ کرے کہ میں آج عصر کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں تمہیں دس روپے دوں گا تو تم مجھے وہاں ملنا۔پھر وہ شخص مسجد مبارک میں آئے اور اس شخص کو ملے اور جس نے وعدہ کیا تھا وہ جیب میں سے دس روپے نکال کر اس شخص کو دے دے اور ساتھ کھڑا ہوا ایک شخص یہ کہے کہ اس شخص نے جھوٹا وعدہ کیا تھا۔جھوٹا وعدہ کیا تھا تو یہ دس روپے کیوں دیدئے۔لیکن وہ یہی کہتا جائے نہیں نہیں یہ شخص جھوٹا ہے میں نے سنا تھا کہ بیشخص جھوٹا ہے۔اب دیکھو تمہارے سننے سے تو کوئی شخص جھوٹا نہیں ہو جاتا۔غرض جس وقت وہ نشان پورا ہو گیا تو بعض لوگ کہنے لگے جس شخص نے یہ بتایا ہے کہ محمد رسول اللہ اللہ نے یہ بات کہی ہے اس کے متعلق ہمیں پتہ نہیں لگا کہ وہ سچا تھا یا جھوٹا تھا۔اس لئے ہم نہیں مانتے لیکن جب چاند اور سورج کو گرہن لگ گیا تو تم مانتے کیسے نہیں اور وہ بات جھوٹی کیسے ہوگئی لیکن بہر حال بعض طبیعتوں میں ضد ہوتی ہے اس لئے بہت سے لوگوں نے نہیں مانا۔اسلام کو دنیا میں غالب کر نیکی ایک عظیم مہم غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اسلام کو دنیا میں غالب کر نیکی ایک عظیم مہم کا اجراء کر دیا۔اس وقت کچھ بڑی عمر کے مرد اور بڑی عمر کی عورتیں آپ پر ایمان لائے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بہت سے نشان دیکھے۔اس وقت قادیان سے ایک اکیلی آواز اٹھی تھی۔اپنے خاندان میں سے بھی کوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہیں مانتا تھا بلکہ خاندان کے لوگ آپ کو برا سمجھتے تھے۔وہ ایک دنیا دار خاندان تھا اور زمیندار خاندان تھا۔اس کا بڑا اثر ورسوخ تھا۔وہ کہتے تھے کہ یہ شخص ہر وقت مسجد میں بیٹھ کر قرآن کریم پڑھتا رہتا ہے۔اس کو دنیا کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔یہ تو ہمارے خاندان کی ناک کٹوادے گا یہ ملاں بن گیا ہے۔اب بھی بعض بیوقوف زمیندار ہیں کہ وہ اپنے بچے کو دینیات نہیں پڑھاتے۔اسے دین کا علم نہیں سکھاتے کہ یہ ملاں بن جائے گا اور وہ کہتے ہیں اسی جٹ آں ساڈا نک کٹیا جائے گا، بعض لوگ اب بھی اس قسم کے پائے جاتے ہیں۔احمدیوں میں تو نہیں