مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 64 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 64

د و مشعل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۶۷ء 64 اور اگر ہیں تو نہ ہونے کے برابر لیکن دوسرے مسلمانوں میں ایسے بہت سے خاندان ہیں۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان بھی ایسا ہی تھا۔نہ گھر والے آپ کی کوئی عزت کرتے تھے اور نہ باہر والے آپ کو جانتے تھے اور خدا نے آپ کو کہا کھڑے ہو کر اعلان کر دو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔کسی کی کچھ پرواہ نہ کرو۔چنانچہ آپ نے اعلان کر دیا وہ اکیلی آواز تھی جو اس وقت اٹھی تھی اور آج ہمارے اس اجتماع میں سینکڑوں کی تعداد میں بچے پہنچ گئے ہیں۔اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑے نہ ہوتے تو ساری دنیا آپ کی مخالفت کر رہی تھی۔کوئی ایک آدمی جا کر آپ کو قتل بھی کر سکتا تھا۔اور دنیا میں روزانہ قتل ہوتے ہی رہتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا آدمی پیدا نہیں ہونے دیا۔اور آپ سے وعدہ کیا کہ میں آپ کی جان کی حفاظت کروں گا۔اس لئے کسی انسان سے نہ ڈرنا۔اور خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا۔بڑی سازشیں ہوئیں قتل کے مقدمے بھی ہوئے اور پتہ نہیں کیا کچھ دنیا نے کیا اور کتنی ندامتیں اور شکستیں دنیا نے اٹھا ئیں۔پھر وہ سلسلہ بڑھنا شروع ہوا۔صحابہ کے بعد ان کی نسلیں سامنے آئیں۔۱۹۲۴ء میں میں پہلی دفعہ مدرسہ احمد یہ میں گیا ہوں۔اس وقت میری عمر قریباً چودہ پندرہ سال کی تھی۔پہلے میں نے قرآن کریم حفظ کیا تھا پھر گھر میں کچھ پڑھا۔بہر حال ابھی میں مجلس خدام الاحمدیہ میں شامل نہیں ہوا تھا گو اطفال کے آخری حصہ میں تھا۔اس وقت ہمارے بڑے یہ کہتے تھے کہ دیکھو جماعت احمدیہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ ساری دنیا میں اسلام پھیلے گا۔تم اپنے آپ کو ابھی سے تیار کرو تا کہ جب وقت آئے اور تمہارے اوپر ذمہ داری پڑے تو تم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل بن جاؤ۔قرآن سیکھو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں پڑھو اور اپنے اللہ سے پیار کرو جو بڑی طاقتوں اور قدرتوں والا ہے۔اس کے وعدے بچے ہوا کرتے ہیں۔اس وقت بچپن کی عمر میں ) ہم بڑے حیران ہوتے تھے کہ چھوٹی سی یہ جماعت ہے۔ویسے اس بات کو غلط نہیں سمجھتے تھے ہمیں یقین تھا کہ خدا کی بات پوری ہوگی لیکن ہم حیران ہوتے تھے کہ یہ کس طرح ہوگا۔بچپن میں آدمی کا دماغ بڑا ادھر ادھر کی لڑانے کا عادی ہوتا ہے۔سوچتے تھے افریقہ میں احمدی جماعتیں قائم ہو جائیں گی۔یورپ میں احمدی جماعتیں قائم ہو جائیں گی اور وہ اسلام اور احمدیت کے غلبہ کی ابتداء ہوگی۔وہ کس طرح ہوگا۔اس وقت تو ایک آدھ جگہ کے علاوہ ہندوستان سے باہر جماعت کہیں تھی ہی نہیں اس لئے ہمیں سمجھ نہیں آیا کرتا تھا لیکن ہمارے بڑے ہمیں ہر وقت یہ کہتے رہتے تھے کہ دیکھو اپنے دلوں کو پاک صاف رکھو۔دیکھو اسلام کی تعلیم سیکھو۔اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔سادہ زندگی گزار و اور نہایت عاجزی کے ساتھ زندگی کے دن گزارو۔کسی کو حقیر نہ سمجھو۔ہزار باتیں ہیں۔سینکڑوں احکام میں قرآن کریم کے۔ہمارے بڑے ہر وقت یہ کوشش کرتے تھے کہ ہم دین اسلام کے احکام سیکھیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔مثلاً اب جو ہماری دنیا ہے اس میں وہ حالت نہیں رہی۔غریب کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن جو چیز مثلاً میں نے اپنے گھر میں دیکھی وہ یہ نہیں تھی۔مجھے حضرت