مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 578 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 578

د فرموده ۱۹۸۱ء 578 مشعل راه جلد دوم کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ذریعے سے کامل کتاب آ گئی ہے۔اس پر کامل عمل کرنے کا نمونہ میں نے پیش کر دیا ہے اور اللہ نے فطرت انسانی کے مطابق ہدایت کا ہر راستہ مقرر کر دیا ہے اور اس تعلیم میں نہ کوئی کمی ہے اور نہ کوئی زیادتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جی کی کہ میرے کامل اتباع کر و استقامت کے ساتھ میرے دامن کو تھامے رہو اور ساری دنیا بھی کہہ دے کہ اللہ کے دامن کو چھوڑ دو تو چھوڑنا نہیں اور استقامت کے ساتھ اور صبر کے ساتھ اس وقت تک میرا دامن تھامے رکھو جب تک اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہ کردے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جب میں کسی کو انعام دینے کا فیصلہ کرتا ہوں تو ساری دنیا کی طاغوتی طاقتیں مل کر بھی اس انعام کو نہیں چھین سکتیں ، اس لئے تم کمزور ہوتے ہوئے غم نہ کھانا اور پورے تو کل اور پوری امید کے ساتھ اللہ تعالی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی اتباع میں زندگی گزارنی ہے۔حضور نے فرمایا کہ اسی طرح سے ہم نے اپنی زندگیوں کو گزارنا ہے اور اسی طرح اپنے اوقات کو صرف کرنا ہے۔اللہ کرے ایسا ہی ہو۔حضور انور کی دعائیں آخر میں حضور نے فرمایا کہ اب ہم دعا کریں گے۔پہلے ہم اپنے لئے دعا نہیں کریں گے بلکہ پہلے ہم دین اسلام کے لئے دعا کریں گے اور امت مسلمہ کے لئے دعا کریں گے۔دین اسلام لئے یہ دعا کریں گے کہ خدا تعالیٰ ان کمز ور لوگوں کو جو اسلام سے دور ہیں اسلام کے قریب کر دے۔وہ کروڑوں سینے جن کے دلوں میں اسلام کے نور کی موجیں موجزن ہونی چاہئے تھے، وہ سارے شہر وہ ساری حویلیاں اسلام کو واپس دیدے ہر دل جو کسی سینہ میں دھڑک رہا وہ الا الہ الا اللہ کا ورد کرنے والا ہو۔حضور نے فرمایا کہ ہم نوع انسانی کے لئے دعائیں کریں گے۔نوع انسانی ہلاکت کے جس گڑھے کی طرف جارہی ہے میں سوچتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے جاتے ہیں۔یہ کتنی خوفناک بات ہے اسے تم سوچ بھی نہیں سکتے اور میں بتاتے ہوئے بھی گھبراتا ہوں۔ان قوموں کو (جو سوچتی ہیں کہ انہوں نے آسمانوں کی رفعتیں حاصل کرلی ہیں حالانکہ وہ زمین کی گہرائیوں میں ہیں ) بظاہر ایسا ہی دکھائی دیتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت انہیں تباہی سے نہیں بچا سکتی جب تک خدا خود ان کی انگلی پکڑ کر نہ بچائے۔حضور نے فرمایا کہ ہم دعا کریں گے کہ وہ لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہیں خدا انہیں نور، سلامتی اور حسن عطا کرے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل بچے معنوں میں بنی نوع انسان کی خدمت کرنے والے ہوں۔حضور نے فرمایا کہ دعا کر میں مظلوم احمدیوں کے لئے مظلوم اس لحاظ سے کہ انسان آپ پر ظلم کرتا ہے۔لیکن ایک لحاظ سے آپ مظلوم نہیں ہیں وہ اس لحاظ سے کہ آپ کے بارے میں خدا نے خود کہا کہ تم میری امان میں ہو۔حضور نے فرمایا کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مختلف قومیتوں کے ان احمدیوں کے لئے بھی دعائیں کریں جو ہمت کے ساتھ نڈر اور بے خوف ہو کر جماعت احمدیہ کے لئے کام کرتے ہیں ان میں سیاہ فام بھی ہیں،