مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 554
فرموده ۱۹۸۱ء 554 و د مشعل راه جلد دوم ہیں ہم پر رعب ڈالنے کے لئے ان میں سے ایک ہزار کی آنکھ نکال دو تیر سے۔اور گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں ان تیراندازوں نے ایک ہزار کی آنکھ میں نشانہ ٹھیک بٹھایا اور آنکھ نکال دی۔اس کے مقابلہ میں مشہور ہے کہ ایک بادشادہ بیوقوف تھا وہ سمجھتا تھا میں بڑا بہادر ما ہر فن ہوں، جنگ جو ہوں تو مشق کر رہا تھا اور کوئی نشانہ بھی اس کا بگو آ ئی (Bulls eye) پر نشانہ پر نہ بیٹھا تھا۔کوئی دس گزا دھر پڑتا تھا کوئی دس گز ادھر پڑتا تھا۔کوئی راہی گذر رہا تھا اس نے سوچا بادشاہ سے مذاق کر رہے ہیں سارے۔جہاں وہ نشانہ ماررہا تھا وہ وہاں کھڑا ہو گیا جا کے۔تو حواری خوشامد خورے کہنے لگے نہ نہ پرے ہٹ پرے ہٹ مرنا چاہتا ہے؟ بادشادہ سلامت تیراندازی کر رہے ہیں۔اس نے کہا کہ صرف یہ جگہ محفوظ ہے جہاں تیر نہیں لگ رہا۔باقی دائیں بھی لگ رہا ہے بائیں بھی لگ رہا ہے او پر بھی نکل رہا ہے ورے بھی پڑ رہا ہے اس جگہ پر نہیں آرہا۔ایک وہ تیرانداز تھا اور ایک یہ تیرانداز کہ ایک ہزار انسان کی آنکھ میں نشانہ مارا ٹھیک اور وہ جو سپہ سالار نے رعب ڈالنا چاہا تھا مسلمان پر وہ نا کام ہو گیا۔وہ سب بھاگے اُس طرف سے جہاں ان پر تیر پڑ رہے تھے اور شہر کے دوسری طرف جا کے اور دروازہ کھول کے باہر نکل گئے اور سارے شہر میں شور مچا دیا کہ مسلمانوں نے ہمارے انکھیں نکال دی ہیں۔خدا کہتا ہے:- لوارادوا الخروج لاعدوله عدة اور اس زمانہ کا مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ تیاری کا یہ مطلب ہے کہ اگر یہ حکم ہو کہ ایک ہزار آنکھ نکال وہ ایک ہزار آنکھ نکال دی جائے گی۔یہ ہے تیاری! تیاری کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج سامنے آ جائے تو آٹھ گھنٹے ایک مسلمان لڑتا رہے گا کامیابی کے ساتھ لڑے گا اور فاتح ہوگا۔ہر روز ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج سے لڑنے کے بعد شام جو نتیجہ نکلتا تھا وہ کسری کی اسی نوے ہزار فوج کی شکست اور ان اٹھارہ ہزار مسلمان۔دُعا گو اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنے والے توحید خالص پر قائم ہونے والے مسلمان کی فتح۔یہ نتیجہ نکلتا تھا۔تیاری اس کا نام ہے قرآن کریم کے نزدیک جو مسلمان نے سمجھا۔تاریخ میں آتا ہے کہ اتنی تیاری کرواتے تھے اپنے بچوں کو کہ بارہ سال کا بچہ آٹھ سال کے بھائی کے سر پر سیب رکھ کے تیر سے اڑا دیتا تھا۔اگر دو تین انچ بھی نشانہ سے نیچے پڑے تو ماتھے پر لگ جائے اور مر جائے بھائی۔لیکن اس کو پتہ تھا کہ میرا تیر سوائے سیب کے کسی اور چیز کو نہیں لگ سکتا اور یہ مشق اور مہارت تھی۔یہ ان کی کھیل تھی۔زمانہ بدل گیا ہے اس واسطے میں اپنے خدام اور انصار اور اطفال اور ناصرات سے کہتا ہوں کہ آج کی جنگ جن ہتھیاروں سے لڑنی ہے ان ہتھیاروں کی مشق، مہارت اور آپ کا ہنر اور پریکٹس کمال کو پہنچی ہوئی ہو۔شکل بدلی ہوئی ہوگی۔اُس زمانے میں دفاع کے لئے اور دشمن کے منصوبہ کو نا کام بنانے کے لئے مادی اسلحہ کی بھی