مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 555
555 فرموده ۱۹۸۱ء دو مشعل راه جلد دوم دد ضرورت تھی۔غیر مادی ہتھیاروں (بصائر وغیرہ) کے استعمال میں بھی ان کو مہارت حاصل تھی۔مگر ہمارے ہتھیار صرف وہ بصائر ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔بصائر سے مراد دلائل ہیں۔بصیرت کی جمع بصائر ہے ایک تو ہے نا آنکھ کی نظر۔ایک ہے روحانی نظر جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ ولكن تعمى القلوب التي في الصدور صلى الله آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں روحانی طور پر وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں دھڑک رہے ہوتے ہیں۔ایک تو ہماری جنگ بصائر کے ساتھ ہے اور بصائر کہتے ہیں وہ دلیل جو فکری اور عقلی طور پر برتری رکھنے والی اور مخالفین کو مغلوب کرنے والی ہو ہمارے ہتھیار (نمبر دو) نشان ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا اظہار جو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو اس لئے اور اس وقت عطا کرتا ہے جب وہ محمد ﷺ کی جنگ لڑ رہے ہوں۔اس کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔دعاؤں کے ساتھ اسے جذب کیا جاسکتا ہے۔اس کے لئے بصائر سیکھنے دعائیں کرنے کے جو مواقع ہیں اُن سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے۔اس واسطے جو آنے والے ہیں انکو آج ہی سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ جس مقصد کے لئے ہمیں بلایا جارہا ہے انہیں پورا کرنے کے سامان کر لے۔ہمیں بلایا جا رہا ہے باتیں دین کی سننے کے لئے کچھ باتیں کہلوانے کے لئے ہم تقریریں کرتے ہیں یہاں آ کے خدا کرے اس میں بصائر ہوں، آیات کا ذکر ہو۔نور ہم نے پھیلانا ہے وہ نور ہم حاصل کرنے والے ہوں، اپنی زندگیوں میں اسے قائم کرنے والے ہوں، اپنے اعمال صالحہ میں اس کو ظاہر کرنے والے ہوں، ظلمات دنیا کو نور میں بدلنے والے ہوں۔جو اجتماع ہور ہے اس میں دو طرح کے نظام ہیں جن کی پوری تیاری ہونی چاہیئے۔ایک تو جو شامل ہونے والے ہیں۔خدام اطفال ناصرات چوکس اور بیدار مغز لے کر یہاں آئیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی رحمت اور اُس کے نور اور محمد اللہ کے پیار اور خدا تعالیٰ کے عشق سے اپنی جھولیاں بھر کر واپس جائیں۔اس کے لئے ابھی سے تیاری کریں۔استغفار کریں۔لاحول پڑھیں۔شیطان کو اپنے سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔خدا سے دعائیں مانگیں کہ ہماری زندگی کا جو مقصد ہے حاصل ہو۔ایک ہی ہے مقصد ہماری زندگی کا۔اس کے علاوہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں اور مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں آج سارے انسانوں پر اسلام اپنے دلائل اپنے نور اپنے فضل اپنی رحمت اور اپنے احسان کے نتیجہ میں غالب آئے اور محمد اے کے جھنڈے تلے نوع انسانی جمع ہو جائے۔دوسری تیاری کرنی ہے منتظمین نے۔وہ بھی بغیر تیاری کے کچھ دے نہیں سکتے۔ایک تو وہ ہیں جو لینے والے ہیں اور معطی حقیقی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لئے میں نے کہا اُس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ تا کہ تمہاری جھولیاں بھر جائیں۔ایک ہیں دینے والے اور جو دینے والے ہیں ان کو قرآن کریم نے دو تین لفظوں میں بیان کیا کہ السمومسنون حقا “۔مومن مومن میں فرق ہے۔ایک وہ گروہ ہے جو محض عام مومن نہیں بلکہ هسم السمومنون حقا۔جن کے متعلق میں نے پچھلے خطبے میں بتایا تھا خدا نے یہ کہا کہ اے محمد !