مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 546 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 546

د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۸۱ء 546 اسے نمبر ایک کہد یا۔میری نظر نے مسیح علیہ السلام کو نمبر ایک نہیں دیکھا۔میں نے مسیح علیہ السلام کو نمبر ایک نہیں کہا۔میں نے محمد ﷺ کو انسانیت میں نمبر ایک پایا اور دیکھا۔میں نے انہیں نمبر ایک کہ دیا۔اور بہت ساری ایسی مثالیں ملتی ہیں۔اس وقت میں لمبی بات نہیں کرنا چاہتا اپنی کمزوری کی وجہ سے سفر کی کوفت کی وجہ سے بھی اور آپ کو بھی ہم نے جھنجھوڑا ہوگا۔اگر میں یہاں ہوتا تو ضرور جھنجھوڑتا چودہ دن اچھی طرح۔اس وقت تو آپ کے نئے ایڈیشنز (Additions) از دیاد علم کا وقت نہیں۔جو آپ نے حاصل کیا ہے اس کی جگالی کرنے کا۔جس طرح جانور بعض کھا لیتے ہیں نا بڑے معدے میں رکھ لیتے ہیں پھر آہستہ آہستہ چباتے ہیں۔ہم امید رکھتے ہیں کہ آپ سوچیں گے اور چبائیں گے اور اپنی پرسنیلٹی (Personality) کا ، اپنے وجود کا ، اپنے ذہن کا ، ان اچھی اسلامی باتوں کو حصہ بنائیں گے جو آپ نے یہاں ایک، دو، دس، پچاس، سومختلف دماغ مختلف تعداد میں پوائنٹس (Points) اٹھاتے ہیں اسلام کے متعلق۔ان سب کو آپ اپنے ذہن کا اور اپنے وجود کا حصہ بنائیں گے۔قرآن کریم تمام علوم کا منبع ہے میں ایک بنیادی چیز آپ کو کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو قرآن عظیم محمد نے بنی نوع انسان کے لئے لے کر آئے تمام علوم کا، خواہ وہ بظاہر دنیوی علوم کہلاتے ہوں یا دینی کہلاتے ہوں ، تمام علوم کامنبع اور سر چشمہ قرآن کریم ہے۔بڑی عظیم کتاب ہے۔تو اس کو پیار سے اور توجہ سے پڑھنے کی عادت ڈالیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس حقیقت کو ایک بڑے پیارے اپنے منظوم کلام میں ایک مصرعے میں یوں بیان کیا۔جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا بڑا عجیب اعلان ہے۔صداقت ہے یہ اور یہ سلوگن (Slogan) نہیں ہے۔سلوگن جو ہے وہ تو رشیا کا یہ کہنا ، رشین کمیونزم کا کہ To each according to his needs یہ سلوگن ہے اس لئے کہ بڑی آسان مقبولیت کے حصول کا ایک انہوں نے ذریعہ بنایا ہے اور اس حد تک غفلت برتی اپنے سلوگن سے کہ Needs لفظ استعمال کیا اور کسی ان کے بڑے نے Needs کی تعریف اپنی کتاب میں نہیں لکھی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو اپنے بنائے انہوں نے غلط فہمی کے نتیجے میں ہم سمجھتے ہیں وہ بن گئے۔مثلاً چیکوسلواکیہ کمیونسٹ ہو گیا۔ان اپنوں کی بھی ضرورت پوری کرنے کی بجائے اپنی فوجیں لیکر ان پر حملہ آور ہو گئے یعنی کمیونسٹ رشیا، چیکوسلواکین ، رشین کمیونٹی ، رشین نیشن، جو تھی اس کے اوپر حملہ آور ہو گیا۔اور توپوں سے گولے بھی گرے۔ہوائی جہازوں سے ہزاورں بم بھی گرائے گئے۔لاکھوں گولیاں رائفلوں سے چلیں ان کے خلاف۔ایک کمیونسٹ ملک ایک کمیونسٹ ملک کے خلاف یہ سب کچھ کر رہا ہے اور سلوگن (Slogan) یہ تھا کہ چیکوسلواکیہ کی ضرورت ہوگی وہ اسے دی جائیگی۔تو آدمی سوچتا ہے، یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا اس وقت جب کمیونسٹ رشیا، کمیونسٹ چیکوسلواکیہ