مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 50
فرمودہ ۱۹۶۷ء 50 د و مشعل راه جلد دوم نہ ہوئی ہو۔یہ احساس کہ میری ضرورتیں اسلام کی ضرورتوں پر قربان ہو جانی چاہئیں اگر ہر بچے کے دل میں پیدا ہو جائے تو ہمیں کل کی فکر نہ رہے۔ہم اس یقین سے پر ہو جائیں کہ جب آئندہ کسی وقت ہمارے بچوں کے کندھوں پر جماعت احمدیہ کا بوجھ پڑے گا وہ اسے خوشی اور بشاشت کے ساتھ اور اس بوجھ کا حق ادا کرتے ہوئے اس کو ادا کریں گے۔اس خطبہ کے ذریعہ میں اپنے تمام بچوں کو جو احمدی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والدین اور گارڈ منیس (سر پرستوں) کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ یہ پسند کرتے ہوں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہورہی ہیں اسی طرح آپ کی اولاد اور نسل پر بھی نازل ہوں۔تو آپ اپنے بچوں کی تربیت کچھ اس رنگ میں کریں کہ ہر ایک کے دل میں یہ احساس زندہ ہو جائے اور ہمیشہ بیدار رہے کہ ایک عظیم مہم اللہ تعالیٰ نے تو حید کے قیام اور غلبہ اسلام کے لئے جاری کی ہے احمدیت کی شکل میں۔اور اب ہمیں اپنا سب کچھ قربان کر کے اس مہم میں حصہ لینا اور اسے کامیاب کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ان انتہائی فضلوں اور رحمتوں کا وارث بننا ہے جن کا وعدہ اس نے ہم سے کیا ہے۔( بحوالہ روزنامہ الفضل ۱۷ نومبر ۱۹۶۷)