مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 489
489 فرموده ۱۹۷۸ء د و مشعل راه جلد دوم دد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُس وقت جو جو باتیں بتائی تھیں اُن پر ابھی اللہ تعالیٰ تین سال نہیں گزرے تھے کہ وہ با تیں پوری ہوگئیں۔الحمد للہ علی ذلک۔اسلام نے ہمیں یہ تعلیم بھی دی ہے کہ خدا تعالیٰ وہ ہستی ہے جس نے ہمیں وہ تمام صلاحیتیں اور استعداد میں دے دی ہیں جن کو ہم صحیح طریق پر استعمال میں لا کر خدا کا قرب اور اُس کا پیار حاصل کر سکتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وسخرلكم مافي السموت ومافي الارض جميعا منه (الجاثیه : ۱۴) یہ سارا عالمین جس کے کناروں تک انسان کی دور بینیں بھی نہیں پہنچ سکتیں اس میں ہر چیز کو انسان کی خدمت پر لگا دیا ہے تا کہ وہ اپنی خدا دصلاحیتوں سے کما حقہ فائدہ اُٹھاتے ہوئے خدا کی رضا کو حاصل کرے اور اُس کا مقرب بندہ بن سکے۔اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت پس خدا تعالیٰ بڑا احسان کرنے والا ہے۔وہ ہمارا بڑا پیارا رب ہے۔اُس کا پیار حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت ضروری ہے اس کے بغیر انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کا پیار پیدا نہیں ہوتا۔غرض الہی صفات کی معرفت کے ساتھ وابستہ ہے اُس کی محبت اور یہ خوف کہ خدا اتنی عظیم ہستی ہے جس نے اپنے پیارکو ہم پر ظاہر فرمایا وہ کہیں ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔جب انسان کے اندر یہ احساس اور محبت پیدا ہو جاتی ہے تو پھر یہ محبت ذاتی بن جاتی ہے محبت ذاتی شروع ہوتی ہے۔اس بات کے احساس سے کہ خدا تعالیٰ بہت احسان کرتا ہے اور انتہاء ہوتی ہے اس معرفت پر کہ خدا تعالیٰ حسن و احسان میں یکتا ہے۔خدا کی محبت میں انسان ہر دوسری چیز کو بھول جاتا ہے حتی کہ اپنا وجود بھی گم ہو جاتا ہے بالفاظ دیگر انسان خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی کیا ہے؟ اس کے متعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پڑھتا ہوں۔اسلام اور اقرآن کریم کی جو شریعت ہمیں ملی ہے اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ہمیں کیا کچھ ملتا ہے؟ اس ضمن میں آپ فرماتے ہیں:- از انجملہ ایک مقام محبت ذاتی کا ہے جس پر قرآن شریف کے کامل متبعین کو قائم کیا جاتا ہے اور اُن کے رگ وریشہ میں اس قدر محبت الہیہ تاثیر کر جاتی ہے کہ اُن کے وجود کی حقیقت بلکہ ان کی جان کی جان ہو جاتی ہے اور محبوب حقیقی سے ایک عجیب طرح کا پیار اُن کے دلوں میں جوش مارتا ہے اور ایک خارق عادت اُنس اور شوق اُن کے قلوب صافیہ پر مستولی ہو جاتا ہے کہ جو غیر سے بکلی منقطع کر دیتا ہے اور آتش عشق الہی ایسی افروختہ ہوتی ہے کہ جو ہم