مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 473 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 473

473 فرموده ۱۹۷۸ء د و مشعل راه جلد دوم دد یہ ایک مسلمان کی شان ہے وہ کسی صورت میں کسی کے سامنے بھی جھوٹ نہیں بولتا۔اس دنیا کی کیا حقیقت اور اس کی عزتیں کیا چیز۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے ایک بڑے فخش گناہ کا ارتکاب کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے پاس آ گیا۔کہنے لگا کہ یا رسول اللہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔اور میں نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد خدا تعالیٰ مجھے جہنم میں پھینک دے اور میں دوسری زندگی میں سزالوں آپ مجھے سزا دے دیں۔آپ نے اس کو تالا ادھر منہ کر لیا مگر جب اس نے اصرار کیا تو آپ نے اسے سزا دی اور اس کے نتیجہ میں اس شخص کی جان نکل گئی۔کسی نے اس شخص کے لئے طعنہ اور تحقیر کا لفظ استعمال کیا اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑے سخت غصہ میں آئے کہ تم کیسی باتیں کرتے ہو وہ شخص تو ایک پاک حیثیت میں اپنے خدا سے جا ملا کیونکہ اس نے گناہ کی سزا پالی اور تمہیں تو پتہ نہیں کہ تم کس حالت میں خدا کے پاس جاؤ گے۔پس تمہاری حالت کسی کو دھتکارنے کی نہیں ہے بلکہ استغفار کرنے کی ہے۔استغفار کرو اور گناہوں کی معافی مانگو اور جنسی نہ کرو۔غرض بیچ دین کی بنیاد بنتا ہے۔جو شخص جھوٹ بولے گا وہ تو دین کے لحاظ سے ختم ہو گیا اور دنیا کے لحاظ سے بھی وہ ختم ہو جاتا ہے۔امانت سے کام لینا اس کے ساتھ تیسری چیز ہے امانت سے کام لینا اور خیانت نہ کرنا۔امانت کے معنی لغت عربی میں یہ ہیں کہ وہ فرائض اور حقوق جو اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں ان کو ادا کرنا۔ایک تو عام امانت ہے کہ فلاں شخص بڑا امین ہے، بڑا امانتدار ہے کوئی چیز اس کے پاس رکھوائیں تو اسے سنبھال کر رکھتا ہے اور واپس کرتا ہے۔یہ بھی امانت کے معنی میں شامل ہے لیکن لغت عربی میں امانت کے ایک معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو فرائض قائم کئے ہیں اور جو حقوق انسان کو دیئے ہیں ان کی ادائیگی کرنا۔اس وقت دنیا میں بہت کم عقلیں ہیں جو انسان سے پیار کر کے اس کے حقوق اسے دینے کے لئے تیار ہوں اور یہ ہمارا فرض ہے ماڈرن سویلائز یشن کی ایک اور کمزوری یہ ہے اور میں بعض دفعہ مذاق بھی کیا کرتا ہوں کہ تمہارا مزدور اپنے حقوق کے حصول کے لئے سٹرائیک کرتا ہے لیکن اسے یہ علم نہیں کہ اس کے حقوق کیا ہیں۔وہ اندھیرے میں کام کر رہا ہے۔اس کو یہ سمجھ نہیں کہ میرا حق کیا ہے اور کہتا ہے کہ میں اپنا حق لینا چاہتا ہوں اور اس کے لئے میں سٹرائیک کر رہا ہوں۔پھر میں ان کو سمجھاتا ہوں کہ اسلام نے حقوق قائم کئے ہیں۔اسلام بڑا عظیم مذہب ہے۔دو تین سال پہلے ایک جگہ میں نے کہا میں تمہیں پہلے کہہ دیتا ہوں کہ جو اسلامی تعلیم میں بیان کروں گا تمہیں یہ جرات ہی نہیں ہوگی کہ تم کہو کہ یہ غلط ہے اور ہم اسے تسلیم نہیں کرتے بلکہ تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ ٹھیک ہے اور کسی کو جرات نہیں ہوئی یہ کہنے کی کہ نہیں یہ تعلیم ٹھیک نہیں۔سب نے کہا کہ ٹھیک ہے اور بڑی اچھی تعلیم ہے۔غرض امانت سے کام لینا اور امانت میں اور خیانت نہ کرنے کا