مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 474 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 474

د فرموده ۱۹۷۸ء 474 مشعل راه جلد دوم مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان انسان کے درمیان جو ہزار ہا قسم کے حقوق قائم کئے ان کی ادائیگی کرنا۔مثلاً باپ کے حقوق بیٹے پر ، بیٹے کے حقوق باپ پر، خاوند کے بیوی پر ، بیوی کے خاوند پر، ہمسائے کے حقوق ہمسائے پر قوموں کے قوموں پر پھر بچوں کے حقوق ہیں علمی لحاظ سے اور کھانے پینے کے لحاظ سے وغیرہ وغیرہ۔ہزار ہاتم کے حقوق ہیں اور قرآن کریم نے ان کی تفصیل بتائی ہے اور قرآن کریم نے ہمارے سامنے یہ تعلیم رکھ کر کہا کہ لا تخونو الله والرسول خدا تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے جو عہد کیا ہے اس میں خیانت سے کام نہ لینا اور خدا تعالیٰ سے جو عہد کئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم امانتدار بنو گے اور خدا تعالیٰ نے جو حقوق قائم کئے ہیں ان کو قائم کرو گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص خواہ تمہارا کتنا ہی دشمن کیوں نہ ہو تم نے اس کے ساتھ بے انصافی نہیں کرنی۔بے انصافی کرنی ہی نہیں چاہے کچھ ہو جائے۔یہ اس لئے نہیں کہ تمہارا دل بڑا وسیع ہے اور تمہارا سینہ بڑا فراخ ہے بلکہ اس لئے کہ تمہارا رب تمہیں کہتا ہے کہ ایسا نہ کرو۔لا يجر منكم شنان قوم على الا تعدلوا اعدلو هو اقرب للتقوى (المائدة: 9)۔کسی کو تم سے دشمنی ہو تو ہوتی رہے تم نے کسی سے دشمنی نہیں کرنی اور صرف دشمنی نہ کرنے کا سوال نہیں بلکہ اس کے حقوق اس کو دلوانے ہیں۔اور ہماری نوے سالہ زندگی میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ہے کہ جماعت احمدیہ کا معاند ترین دشمن ضرورت کے وقت جماعت کے اکابر کے پاس مدد کے لئے آیا ہو اور انہوں نے مدد کرنے سے انکار کیا ہو۔لمبی چوڑی تفصیل ہے جس میں میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔جس کا حق ہے وہ اسے ملنا چاہئے قطع نظر اس کے کہ میرے ساتھ اس کے ذاتی کیا تعلقات ہیں، قطع نظر اس کے کہ جماعت کے متعلق اس کی کیا رائے ہے، قطع نظر ہر چیز کے خدا نے اس کا جو حق قائم کیا ہے اس حق کو میں اور تم غصب نہیں کر سکتے۔یہ ہے اسلامی تعلیم پس اخلاقی لحاظ سے اپنا ایک مقام پیدا کر وا گر دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے تو محض منہ کی باتوں سے ایسا نہیں کر سکتے وہ نمونہ مانگتے ہیں۔تم کہو کہ ہم اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی کمزوریاں ہمارے ساتھ ہیں ہم غلطی بھی کر جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے معافیاں بھی مانگتے ہیں۔سب کچھ ہے لیکن ہم اپنی سی کوشش کرتے ہیں کہ ہم عمل کریں اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کریں۔اگر ہم خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لیں اور خدا کے ہور ہیں تو خدا تعالیٰ نے الہاماً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اور آپ کے ذریعے ہمیں بھی بتایا ہے کہ ” جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دل کی یہ کیفیت بیان کی ہے کہ جس کو خدامل جائے اس کو کسی اور چیز کی کیا ضرورت ہے آپ نے فارسی کے ایک شعر میں کہا ہے کہ اے خدا جس کا تو ہو جائے اس نے دنیا کولیکر