مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 447
447 فرمودہ ۱۹۷۷ ء د و مشعل راه جلد دوم محمدیہ کو بشارتیں دی گئی ہیں کہ لیظهره علی الدین کلہ کی بشارت کے مطابق دینِ اسلام تمام ادیان اور تمام از مز (ISMS) پر غلبہ حاصل کرے گا۔میں علی الدین کلہ کے معنی محض مذاہب نہیں کرتا بلکہ انسانی دماغ میں حمدن اور معاشرہ اور اقتصادیات کے جو اصول بنا لیے ہیں اور جولوگوں کے نزدیک مذہب کے قائمقام بن چکے ہیں ان کو بھی میں اس میں شامل کرتا ہوں یعنی میرے نزدیک لیسظهره علی الدین کله کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دین اسلام کی صداقت عیسائیوں پر تو واضح ہو جائے گی لیکن کمیونسٹ دہریوں پر واضح نہیں ہوگی بلکہ جو اشترا کی نظام ہے جسے انہوں نے مذہب کی بجائے اپنے ملک اور اپنے زیر اثر علاقوں میں قائم کر رکھا ہے اس پر بھی اسلام اپنے روحانی اور اخلاقی اور علمی اصول کے ذریعہ غالب آئے گا اور ان سے بھی اپنا سکہ منوائے گا اور ان اقوام کو بھی جو مذہب کے نام سے تو دور ہٹ چکی ہیں لیکن جنہوں نے اپنی عملی زندگی کے لئے فلسفیانہ اصول بنالئے ان کو ماننا پڑے گا کہ نہ کوئی پرانادین اس زمانے میں کام آتا ہے اور نہ ان کی عقل ان کو نجات کی راہ دکھلا سکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں نوع انسانی امت واحدہ بن کر اور ایک خاندان کے طور پر محمدعلی علیہ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے انقلاب عظیم اور دو بنیادی مطالبے یہ انقلاب عظیم جو محمد اللہ کے ذریعہ آج سے قریباً چودہ سو سال پہلے پا کیا گیا تھا وہ اب جیسا کہ میں نے بتایا ہے اپنے عروج کو یعنی جب اس نے اپنی انتہا کو پہنچنا ہے اور اس نے آخری غلبہ حاصل کرنا ہے ، اس دور میں داخل ہو چکا ہے۔اس انقلاب عظیم حرکت کا اپنے آخری دور میں داخل ہو جانا ہم سے دو بنیادی مطالبے کر رہا ہے، اس وقت میں انہی دو مطالبوں کے متعلق آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔پہلا مطالبہ اول: نوع انسانی کوامت واحدہ بنا کر اور ایک خاندان کی حیثیت میں محمد ہے کے جھنڈے تلے جمع کرنے کا کام ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہماری اپنی صفوں میں کامل اور پختہ اتحاد قائم ہو۔چنانچہ میں نے اس سے پہلے انصار اللہ کے اجتماع میں بتایا تھا کہ اسلام کے پہلے دور یعنی اسلام کی نشاۃ اولی کی پہلی تین صدیوں میں خصوصاً اسلام کے ذریعہ اور محمد مے کے افاضہ روحانیہ کے نتیجہ میں انسانی زندگی میں بڑی انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں لیکن ایک چیز بڑی نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے اور وہ یہ کہ اس اتحاد میں جو اسلام کے پہلے دور کا اتحاد ہے انتشار بھی بڑا نمایاں ہے۔مثلاً ہم فقہ کو لے لیتے ہیں۔فقہ بھی دراصل عام قانون سے ملتی جلتی ہے یعنی جب عام قانون کو الہی تعلیم ہدایت کے مطابق مدون کیا جاتا ہے تو وہ فقہی مسائل بن جاتے ہیں مثلا لین دین کے مسائل ہیں۔لڑائی جھگڑے دور کرنے کے مسائل ہیں۔میاں بیوی کے تعلقات کے مسائل ہیں۔تجارتوں کے مسائل