مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 448
فرمودہ ۱۹۷۷ء 448 د دمشعل را کل راه جلد دوم ہیں۔تجارتوں میں شراکت کے مسائل ہیں۔ایک دوسرے کے اموال کی حفاظت کرنے۔اموال غصب نہ کرنے۔بد دیانتی نہ کرنے اور خیانت نہ کرنے وغیرہ کے بارہ میں سارے قوانین کو فقہاء نے اسلامی ہدایت کی روشنی میں مدون کیا ہے۔اگر چہ اسلام سے پہلے بھی دنیا کا قانون موجود تھا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے فقہائے اسلام نے دن رات ایک کر کے نوع انسانی کی اس میدان میں جو خدمت کی اس نے پہلی بار انسان کی آنکھ کھولی کہ اس رنگ میں یہ قوانین ہمارے سامنے آنے چاہئیں۔ٹھیک ہے دنیا میں بعض پرانے قوانین ایسے ہیں جو بعض قوموں نے بنائے ہیں اور جن کا نام یورپ آج بھی لے رہا ہے لیکن وہ بنیادی حسن اور وہ بنیادی کمال ان قوانین کے اندر ہمیں نظر نہیں آتا۔یہ اسلام ہی تھا جس نے انسان کی سوچ اور سمجھ اور عقل اور فکر کا دھارا اس طرف موڑ ا جس طرف انسان کی فطرت کا تقاضا تھا۔پس اگر چہ فقہائے اسلام نے بڑا کام کیا۔آئمہ اربعہ نے بڑی محنتیں کیں۔انہوں نے نوع انسانی کے لئے بڑی تکالیف اٹھا ئیں اور بنی نوع انسان کے ہاتھ میں ایک خوبصورت فقہ اور قانون دیا لیکن اس کے باوجود امت مسلمہ میں چار مختلف گروہ بن گئے۔ایک حنفی فقہ کو ماننے والے ہیں، ایک شافعی فقہ کو ماننے والے ہیں ، ایک مالکی فقہ کو ماننے والے ہیں اور ایک حنبلی فقہ کو ماننے والے ہیں۔پھر آگے ہر ایک میں اندرونی اختلاف ہیں۔پس اتحاد کے اندر انتشار کہ لیا جائے یا انتشار کے اندر اتحاد کہہ لیا جائے ایک ہی بات ہے۔یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ انتشار کلی طور پر ایسا انتشار تھا جس نے امت مسلمہ کے ٹکڑے ٹکڑ۔کر دیے تھے اور ان کا آپس میں کوئی اتصال ہی نہیں رہا تھا۔ٹکڑے تو کر دیے تھے لیکن ان کا اتصال بھی قائم رہا کیونکہ وہ سب متفق تھے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات پر۔وہ سب متفق تھے، محمد اللہ کے فضل الرسل اور خاتم الانبیاء ہونے پر۔وہ سب متفق تھے اسلام کے دین الہی ہونے پر کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر کامل اور مکمل شریعت نازل فرمائی ہے اور وہ تمام متفق تھے اس بات پر کہ قرآن کریم ایک عظیم ہمیشہ رہنے والی ہدایت پر مشتمل ہے جو بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے انسان کے ہاتھ میں دی گئی ہے۔غرض جو بنیادی مسائل تھے ان میں متفق تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات پر متفق ہونے کے باوجود خدا تعالیٰ نے جو یہ فرمایا تھا کہ میں اپنی ذات اور صفات میں بے مثل ہوں اور تمام صفات حسنہ سے متصف ہوں اور کوئی عیب اور نقص اور کمی اور برائی میری طرف منسوب نہیں ہو سکتی ان باتوں میں آگے اختلاف ہو گیا کسی نے کسی جگہ ٹھوکر کھالی اور کسی نے کسی جگہ ٹھوکر کھالی لیکن بنیادی طور پر اتحاد بھی بڑا ہے اور انتشار بھی بہت ہے۔اس انقلاب عظیم کی حرکت کے پہلے دور میں دونوں چیزیں ایک ہی وقت میں ہمیں نظر آ رہی ہیں۔پس چونکہ نوع انسانی کو امت واحدہ بنا دینا نبی اکرم ﷺ کی پیشگوئیوں اور ارشادات کے مطابق مسیح اور مہدی علیہ السلام اور آپ کی جماعت کا کام ہے اس لئے آپ کی جماعت میں کسی قسم کا انتشار نہیں ہونا چاہیے۔واعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا کی روسےاتحاد و اتفاق کا کامل نمونہ ، جس میں کوئی رخنہ نہ ہو وہ ہماری جماعت میں نظر آنا چاہیے۔