مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 436
فرمودہ ۱۹۷۷ء 436 و مشعل راه جلد دوم وعدہ۔جن کی آپس میں نسبت ہی کوئی نہیں۔یہ محض فضل الہی اور خدا تعالیٰ کی رحمت ہے جو انسان کو اتنے بڑے انعامات کا وارث بنادیتی ہے ورنہ اردو میں ایک محاورہ مشہور ہے کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ہمارے اعمال کیا حیثیت رکھتے ہیں۔اگر انہی کے مطابق جزا دی جاتی تو اس عمر کے مطابق ہو جاتی۔مثلاً اگر کسی نے ساٹھ سال نیکیاں کی ہیں تو اسے ساٹھ سال کیلئے جنت مل جاتی اگر کسی نے اسی سال خدا تعالیٰ کی خاطر تقوی شعاری سے کام لیا ہے تو اسی سال کیلئے خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتیں اس کے نصیب میں لکھ دی جاتیں۔لیکن یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ انسان اس مختصری زندگی میں جو کچھ تھوڑا بہت خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ اس کی کوشش کو قبول کر لے تو اسے وہ جنتیں ملتی ہیں اور وہ انعامات ملتے ہیں جن کی کوئی انتہا نہیں جن کا کوئی خاتمہ نہیں اور پھر مرنے کے بعد نہیں بلکہ اس زندگی میں اس کیلئے ایک جنت شروع ہو جاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے سائے تلے ہنستا مسکراتا، مخالف قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس میرا مقصد اس وقت مختصر تقریر سے یہ ہے کہ میں کوشش کروں کہ آپ اپنے مقام کو پہنچاننے لگیں۔نب کریم ﷺ کی بعثت کے ساتھ نوع انسانی جس کا تعلق ہمارے آدم کے ساتھ ہے کی زندگی میں ایک ایسا انقلاب بپا ہو گیا اور ایک ایسی انقلابی حرکت پیدا ہوگئی کہ جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی اور نہ قیامت تک اس قسم کا عظیم انقلاب بپا ہو سکتا ہے۔انقلابی حرکت یا انقلاب (ایک چیز جو آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے وہ نہیں) بلکہ زمین و آسمان تہ و بالا کر دیئے جائیں اور ایک نئی زمین ہو اور نیا آسمان پیدا ہو جائے۔یہ ہے انقلاب۔تاہم انسان اپنی کوشش میں انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی ارتقائی مراحل میں سے گذرتا ہے۔ترقی کرتا ہے چھوٹے سے بڑا ہوتا ہے۔جو کمزور قو میں ہیں وہ طاقتور ہو جاتی ہیں جو سائنس اور تحقیق اور علم میں پیچھے ہوتی ہیں وہ آگے نکل جاتی ہیں وہ زمین کو چھوڑ کر چاند پر پہنچ جاتی ہیں اور دنیا کو اکٹھا کرنے کے خواب دیکھنے لگتی ہیں۔اشتراکی انقلاب نے ساری دنیا کے انسان کے ایک حصہ کو جس کو ہم ایک بڑا حصہ کہہ سکتے ہیں اکٹھا کرنے کے خواب دیکھے تھے۔جب انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ Proletariat of world unite کہ سارے غریب اور وہ لوگ جن پر ظلم ہورہا ہے جن کا استحصال کیا جارہا ہے اکٹھے ہو جاؤ۔ہم تم سب کو ساتھ ملا کر تمہیں ظلم سے نجات دلائیں گے۔استحصال سے تم چھٹکارا حاصل کرو گے اور پھر ترقیات کی راہ پر اور آگے بڑھیں گے۔لیکن ابھی کتنا وقت گزرا۔ساٹھ سال کے قریب سمجھ لیں آپ ، اور ابھی سے ان کی حرکت آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف ہونی شروع ہوگئی ہے اور وہ جنہوں نے ساری دنیا کے Proletariat (پرولیٹریٹ ) کو یہ کہا تھا کہ unite ( یونائٹ) اکٹھے ہو جاؤ ہم تمہارے ساتھ مل کر تمہاری قیادت کر کے تمہیں ہدایت دے کر اوپر ہی اوپر لے جاتے چلے جائیں گے۔وہی لوگ جو ساری دنیا کے Proletariat کو ، غریب اور مظلوم کو اکٹھا کر رہے تھے انہوں نے بعض دوسری قوموں کے ساتھ مل کر اپنے تاثرات کا دائرہ مقرر کر لیا کہ دنیا کے یہ حصے میرے influence ( انفلوئنس) اور یہ حصے تمہارے influence میں ہوں گے۔یعنی جن کے ساتھ لڑائی تھی جن کو