مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 435
435 فرمودہ ۱۹۷۷ء دومشعل راه جلد دوم مورخہ ۴، نبوت ۱۳۵۶ بهش بمطابق ۴ ، نومبر ۱۹۷۷ء مسجد اقصی کے صحن میں سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے جو خطاب فرمایا تھا اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: - خدام الاحمدیہ کے نمائندے ہر سال اپنے سالانہ اجتماع میں شمولیت اختیار کرتے تھے اور یہاں ان کو ان کے کاموں اور ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی جاتی تھی۔لیکن درمیان میں ایک لمبا وقفہ آ گیا اور اس وقفے کی بعد اب چوتھے سال یہ اجتماع ہورہا ہے۔اس دوران عمر کے لحاظ سے چار گروہ اطفال سے خدام میں شامل ہو چکے ہیں اور چار گر وہ خدام الاحمدیہ سے نکل کر انصار اللہ میں جاچکے ہیں اور جو دوسرے خدام ہیں ان کو بھی اس اجتماع کے موقعہ پر مرکز میں آنے کے بعد نیکی کی باتیں اور اسلام کی باتیں سننے کے جو مواقع ملتے تھے ان سے وہ حصہ نہیں لے سکے۔اس لئے آج اس وقت میں مختصر ا آپ کو آپ کا مقام یاد دلانے کی کوشش کروں گا۔خدام الاحمدیہ کا مقام اور ذمہ داری جب تک انسان کو یہ پتہ نہ ہو کہ اس کا مقام کیا ہے اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اس پر بوجھ کیا ڈالا گیا ہے اور اس کیلئے انعام کیا مقرر کئے گئے ہیں اس وقت اس کے دل میں کام کیلئے دلچسپی اور بشاشت پیدا نہیں ہوتی۔اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اسلام کی تعلیم کو سمجھنے لگ جائیں اور فرائض اسلام کو اسلامی ہدایت و شریعت نے ان پر جوفرائض ڈالے ہیں ان کو پہچانے لگیں اور جو انعام اس پر دیئے گئے ہیں وہ ان کی نظر کے سامنے ہوں تو ان کے دل میں ایک بشاشت پیدا ہوتی ہے کہ کام تو ہم نے تھوڑا سا کیا ہے لیکن اس کے بدلے میں غیر متناہی انعامات کا ہم سے وعدہ کیا ہے اور آپ نے فرمایا کہ جس مسلمان کے دل میں اسلام کیلئے بشاشت پیدا ہو جائے تو اس کو کوئی خطرہ نہیں رہتا کہ کہیں وہ گمراہ نہ ہو جائے یا اسے ٹھوکر نہ لگ جائے اور شیطان کا حملہ اس پر کامیاب نہ ہو جائے کیونکہ بشاشت ان ساری چیزوں کے بعد پیدا ہوتی ہے یعنی ایک انسان اسلام کی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے پھر ان کو تولتا ہے پھر ان کا اندازہ لگاتا ہے کہ کس قسم کی ذمہ داریاں ہیں اور پھر وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ہماری طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ہم پر نہیں ڈالا گیا بلکہ خدا تعالیٰ نے جو قو تیں اور استعدادیں ہر میدان میں آگے بڑھنے کیلئے ہمیں عطا کی تھیں ان کے عین مطابق ہم پر ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں پھر وہ یہ جانتا ہے کہ جو کچھ بھی ہم اس چھوٹی سی زندگی میں کریں اس کے مقابلہ میں ابدی جنتوں کا وعدہ ہے نہ ختم ہونے والے انعامات کا