مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 431 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 431

431 فرموده ۱۹۷۶ء دو ہوتا د و مشعل راه جلد دوم لئے اے انسانی جسم کے ذرو! تم ادویہ کا اثر قبول کرتے تھے اور صحت مند ہو جاتے تھے۔خدا فرماتا ہے میں نے دواؤں کے اجزاء سے کہا بلکہ حکم دیا ہوا تھا کہ تم انسانی جسم پر اس رنگ میں اثر انداز ہو جس میں وہ چاہتا ہے اور یہ خدا کا بڑا عجیب حکم ہے۔مثلاً ایک دوائی ہے وہ جسم کے کسی نہ کسی خاص حصہ پر اثر کرتی ہے۔ہمارا جسم گوشت پوست کا بنا ہوا ہے۔کمر کے بعض حصوں کا یا ٹانگوں کا یا دل کا لوتھڑا وہ بھی گوشت ہی کا ٹکڑا ہے یا جگر ہے اور وہ بھی گوشت ہی ہے۔اب دیکھو بعض ادویہ ایسی ہیں جو صرف جگر پر اثر کرتی ہیں۔پنڈلی کے گوشت پر اثر نہیں کرتیں۔بعض ادویہ پنڈلی کے گوشت پر اثر کرتی ہیں لیکن دل کے گوشت پر اثر نہیں کرتیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا ان کو حکم ہے ہے کہ تم نے فلاں جگہ اثر کرنا ہے اور فلاں جگہ اثر نہیں کرنا اس لئے جب خدا تعالیٰ کسی کو ہلاک کرنا چاہتا ہے یا کسی پر اپنی عظمت کو ظاہر کرنا چاہتا ہے (دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں) تو خدا تعالیٰ پہلے یہ حکم دیتا ہے کہ اے جسم کے ذرو! ادویہ کا اثر قبول کرنے سے انکار کر دو۔اور ادویہ کے اجزاء کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم اب انسانی جسم پر اثر نہیں کرو گے۔یعنی اس مخصوص انسان کے جسم پر اثر نہیں کرو گے جس کا میں مثالاً ذکر کر رہا ہوں۔پھر ساری دنیا کے ڈاکٹر کوشش کر بیٹھتے ہیں اور اپنی تدبیروں کو انتہاء تک پہنچا لیتے ہیں لیکن ادویہ کا اس جسم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ خدا کا ایک بندہ وہ خود یا اس کے لئے کوئی اور دردمند انسان خدا کے حضور شفاء کے لئے دعا کرتا ہے۔اس کی صحت اور اس کی زندگی کے دراز ہونے کی دعا مانگتا ہے تب خدا تعالیٰ آسمان سے دو حکم نازل کرتا ہے ایک یہ کہ انسانی جسم کے ذروں کو کہا جاتا ہے کہ تمہیں جو حکم دیا گیا تھا کہ ادویہ کے اثر کو قبول نہ کرو وہ حکم اب واپس لیا جاتا ہے اب تم دواؤں کے اثر کو قبول کرو اور ادویہ کے اجزاء کو آسمان سے اللہ تعالیٰ کا حکم آتا ہے کہ اب تم اس انسان کے لئے موثر بن جاؤ۔چنانچہ وہ انسان چنگا بھلا ہو جاتا ہے اور ڈاکٹر دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں۔ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ مریض کیسے ٹھیک ہو گیا۔- ہماری ایک احمدی خاتون کو کینسر تھا بیماری بڑھتی چلی گئی۔دوائیں ناکارہ ثابت ہوئیں یہاں تک کہ لاہور کے چوٹی کے فزیشنز (اطباء) نے جو کینسر کے علاج کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے مریضہ کے رشتہ داروں سے کہا کہ بیماری اپنی انتہاء کو پہنچ چکی ہے۔اب مریضہ کا بچنا ممکن نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ ان کے اندازہ کے مطابق بس دو چار ہفتے تک اور زندہ ہے۔پھر یہ مر جائے گی۔اب یہ تمہاری مرضی ہے اسے ہسپتال ہی رہنے دو یا اگر چاہو تو اسے آکے لے جاؤ تا کہ وہ اپنے رشتہ داروں عزیزوں اور سہیلیوں سے مل لے۔زندگی کے ان چند عارضی ہفتوں میں اپنے عزیزوں اور سہیلیوں میں اس کی طبیعیت بہل جائے گی۔چنانچہ اس کے رشتہ دار اسے اپنے گھر لے گئے۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے ہماری اس بہن کے ایک عزیز کو خواب میں بتایا کہ اسکو فلاں دوائی دو، وہ اثر کرے گی۔ساری دوائیں تو انسان کے علم میں نہیں ہوتیں۔چنانچہ وہ ہیں جنگل میں وہ بوٹی ملتی تھی۔انہوں نے اس کو لیا اور استعمال کروایا۔خدا کی یہ شان کہ وہ مریضہ اچھی ہو گئی۔جب دو تین مہینے کے بعد اس میں دوبارہ جان آگئی اور وہ پوری طرح صحت مند ہو گئی۔تو اس کے رشتے دارا سے اسی چوٹی کے فزیشن کے پاس لے گئے اور بتایا