مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 430 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 430

ل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۷۶ء 430 دومشعل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کے مضمون پر بہت کچھ لکھا ہے۔تم اسے غور سے پڑھو۔یہ مجھے معلوم نہیں کہ اس عرصہ میں تمہیں مطالعہ کرنے کے لئے کتنا وقت ملے گا۔جب بھی تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کا موقع ملے اس کلاس کے دوران یا بعد میں کسی اور وقت، تو جہاں اور مضامین پڑھو وہاں خاص طور پر پہلے دعا کے حصے کو پڑھو اور اس پر غور کرو اور اس کی جو اہمیت ہے، اس کو سمجھنے کے قابل بنو اور اس کے پس پردہ خدا تعالیٰ کی جوشان نظر آتی ہے اس سے لطف اندوز ہو کہ کس طرح ایک عاجز بندے کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنے قانون قدرت کو بھی ایک اور قانون قدرت سے بدل دیتا ہے۔وہ بھی اسی کا قانون ہے۔یہ نہیں کہ کسی اور ہستی کا قانون ہے مگر جو ظاہری قانون قدرت یا سنت اللہ ہے ایک اور قانون سے بدل جاتی ہے مثلاً آگ جلاتی ہے اور پانی میں آگ کو بجھانے کی خاصیت ہے۔ان چیزوں کے نیچے خدا کی ایک اور قدرت کام کر رہی ہے۔گویا بعض اوقات خدا کی ایک اور قدرت اس ظاہری قانون قدرت کو بدل دیتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو آگ ٹھنڈی ہوگئی۔اب یہ نئے فلسفہ والے اور دھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوا۔میں کہتا ہوں یہ اسی طرح ممکن ہو گیا جس طرح کہ آگ کے لئے یہ ممکن ہوا کہ وہ لکڑی کو جلائے۔پس اس مضمون کو سمجھنا میرے لئے تو کوئی مشکل نہیں۔اس واسطے کہ مجھے یقین کامل حاصل ہے اور میں علی وجہ البصیرت اور ایک لمحہ کی ہچکچاہٹ کے بغیر کہتا ہوں کہ آگ اس لئے نہیں جلاتی کہ وہ آگ ہے بلکہ آگ اسلئے جلاتی ہے کہ خدا نے اسے کہا ہے کہ جلائے اور وہ جلانے لگ گئی۔اسی خدا نے جب اسے یہ کہا کہ نہیں جلانا تو نہیں جلائے گی۔اس واسطے میرے لئے تو کوئی الجھن نہیں ہے اور میں بڑے اطمینان اور دلی سکون کے ساتھ اس حقیقت سے واقفیت رکھتا ہوں اور اپنی زندگی میں ان چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہوں لیکن بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کو ابھی کچھ سیکھنا ہے اور جس کو یہ نکتہ سمجھ آ جائے کہ خدا کا حکم قانونِ قدرت کو مئوثر بنا تا ہے۔اسی حکم کو ہم قانونِ قدرت کہنے لگ گئے ہیں یعنی یہ اسی کی سنت ہے اور اسی کا ایک اور قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کہہ دیتا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا تو نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایک آدمی بیمار ہو جاتا ہے۔اس کی بیماری بڑھتی چلی جاتی ہے۔وہ امیر آدمی ہے بڑے بڑے ڈاکٹروں کے پاس جاتا ہے اور بڑے پیسے خرچ کرتا ہے۔( میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات کا مفہوم بیان کر رہا ہوں) روپے پیسے والوں کا جیسا کہ آجکل طریق ہے، وہ انگلستان چلے جاتے ہیں۔یورپین ممالک میں چلے جاتے ہیں۔امریکہ چلے جاتے ہیں۔خدا نے انہیں دولت دی ہے وہ بے شمار دولت خرچ کرتے ہیں لیکن ان میں سے کئی ایک کو ڈاکٹر کہتے ہیں تمہارا مرض لاعلاج ہے۔وہ اسے کہتے ہیں ہمیں جو علم تھا۔جن ادویہ کو ہم جانتے تھے یا جو علاج ہم کر سکتے تھے اور جو تدابیر ہم اختیار کر سکتے تھے وہ ساری اختیار کی جا چکیں لیکن ہمیں تو یہ نہیں لگتا کہ کیا قصہ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قصہ تو آسان ہے۔خدا تعالیٰ ایسے شخص کے وجود کے ذروں کو حکم دیتا ہے کہ میں نے عام قانون کے مطابق تمہیں ایسا بنایا تھا کہ یہ ادویہ تمہارے اوپر اس رنگ میں اثر انداز ہوں جس رنگ میں ڈاکٹر سمجھتے ہیں کہ ادویہ مئوثر ہو جاتی ہیں اس