مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 397 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 397

فرموده ۱۹۷۳ء 397 د دمشعل تل راه جلد دوم کیا ۱۰۳۹ گاؤں کا اور لائل پور نے کیا صرف ۲۴۷ گاؤں کا۔لائل پور اس لحاظ سے بہت پیچھے رہ گیا ہے حالانکہ ان کو پیچھے نہیں رہنا چاہیئے تھا۔اسی طرح لاہور کے ضلع میں ۹۰۰ گاؤں ہیں اور صرف ۱۱۴ گاؤں کا دورہ کیا گیا ہے۔کراچی کے ماحول میں جو گاؤں ہیں ان کی تعداد نہیں بتائی گئی لیکن انہوں نے دورہ کیا ہے صرف ۹۷ گاؤں کا۔ضلع شیخوپورہ (جہاں کے امیر چوہدری محمد انور حسین صاحب ہیں اور اس وقت یہاں بیٹھے ہوئے ہیں) کے ۱۰۹۳ گاؤں ہیں اور دورہ کیا گیا ہے صرف ۷۸ گاؤں گا۔ساہیوال نے اپنے ضلع کے گاؤں کی تعداد نہیں بتائی البتہ ۹۱ گاؤں کا دورہ کیا گیا ہے۔ان نوضلعوں میں سے (جن کی رپورٹ اس وقت میرے سامنے ہے ) ضلع سیالکوٹ سب سے پیچھے رہ گیا ہے۔اس ضلع کے ۲۹۴۱ گاؤں ہیں اور صرف ۴۷ گاؤں کا دورہ کیا گیا ہے حالانکہ وہاں جماعتیں زیادہ ہیں۔وہاں کے احمدیوں کی تعداد ضلع سرگودھا کے احمدیوں سے کہیں زیادہ ہے۔اس لئے وہاں کے قائد ضلع خدام الاحمدیہ اور امیر جماعت ہائے احمد یہ ضلع سیالکوٹ کو اس طرف فوری طور پر توجہ کرنی چاہیئے۔غرض اس چھ ماہ کی کوشش میں ضلع سرگودھا اول آیا۔اور نہ صرف اوّل آیا بلکہ بہت اچھی فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوا ہے۔یعنی انہوں نے ۱۰۷۸ گاؤں میں سے ۱۰۳۹ گاؤں کا دورہ کیا۔صرف ۳۹ گاؤں کا وہ دورہ نہیں کر سکے۔اس لئے اول آنے والوں کے لئے میں نے ایک ہزار روپے کا جو انعام مقرر کیا تھا ( مجھے اس کی رپورٹ کل ملی تھی۔میں نے پیسے اس وقت بھجوا دیئے تھے لیکن چونکہ میں نے کچھ کوائف بتائے تھے اس لئے یہ انعام علیحدہ دینا چاہتا تھا) وہ ضلع سرگودھا کے قائد خدام الاحمدیہ آکر حاصل کر لیں۔اللہ تعالیٰ ان کے کاموں میں بہت برکت ڈالے اور انہیں احسن جزادے اور دوسروں کے لئے وہ موثر نمونہ بھی بنیں۔( اس موقعہ پر قائد صاحب ضلع سرگودھا مکرم چوہدری ریاض احمد صاحب نے حضور کے دست مبارک سے انعام حاصل کیا ) مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ لاہور کیوں پیچھے رہ گیا ہے۔لاہور تو سائیکلوں کا گھر ہے۔وہاں تو جمعہ کے روز دارالذکر میں اتنے سائیکل ہوتے ہیں کہ اگر ان میں سے ہر سائیکل کی پانچ پانچ گاؤں میں جانے کی ڈیوٹی لگا دی جاتی تو لاہور والے آگے نکل جاتے۔کیونکہ سائیکل وفود کے ذریعے جو کام ہوا اور اس کے جو خوشکن نتائج نکلے (جن کے بتانے کی اس وقت گنجائش نہیں ہے ) وہ بڑے حسین ہیں، بہت دلچسپ ہیں اور بڑے خوش کن ہیں۔اس لذت سے لاہور کو محروم نہیں رہنا چاہیئے تھا۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ کہیں پلاؤ پکا ہوا ہو تو انسان یہ چاہتا ہے کہ اسے بھی حصہ ملے۔لیکن اس سے کہیں زیادہ مسرت والی چیزوں سے پتہ نہیں کیوں بعض ضلعوں کے خدام نے منہ پھیر لیا اور خود کو ان سے محروم کر لیا۔مجالس کی نمائندگی اجتماع میں پانچ سالہ نمائندگی کا گوشوارہ اس وقت میرے سامنے ہے۔اس گوشوارہ کے مطابق ۱۹۲۹ ء یعنی