مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 370 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 370

370 کے سامان بھی ہیں۔فرموده ۱۹۷۳ء دو مشعل راه جلد دوم اس وقت دنیاوی لحاظ سے جو اقوام ترقی یافتہ کہلاتی ہیں ان کے معاشرہ کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ایک وہ حصہ جو اقوام کی خوبیوں پر مشتمل ہے اور ایک وہ حصہ جو ان کی برائیوں پر مشتمل ہے۔جو حصہ تو ان کی بد عملیوں سے تعلق رکھتا ہے۔وہ انہیں ہلاکت کی طرف لے جارہا ہے۔اور جو حصہ ان کی خوبیوں پر مشتمل ہے وہ انہیں ہلاکت سے محفوظ رکھ رہا ہے۔گویا ایک قسم کا مقابلہ ہے جو ان کی زندگی اور ان کے معاشرہ کی بدی اور خوبی کے درمیان ہورہا ہے اور ہمیں یہ نظر آ رہا ہے کہ آہستہ آہستہ ان کی بدیاں ان کی خوبیوں سے زیادہ ہو جانے کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔جس وقت برائی نیکی سے بڑھ جائے اور دنیا میں فساد پیدا ہو تو اس وقت اقوام اللہ تعالیٰ کی قہری گرفت میں آ جاتی ہیں۔جو حصہ ان کی خوبیوں پر مشتمل ہے اس پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سارے کے سارے اصول قرآن کریم سے اخذ کئے گئے ہیں۔مثلاً جب تجارت میں بعض اقوام نے دنیا میں ترقی کی اور ان کی تجارت ساری دنیا میں پھیل گئی یہیں سے دولت مشترکہ کی ابتداء ہوئی یعنی مختلف یور بین اقوام تجارتی اغراض کے لئے اکٹھی ہو گئیں پھر جب امریکہ کی یا جاپان کی اجارہ داری قائم ہوئی اور اب چین میدان میں آرہا ہے۔ان کی تجارت کی بنیاد دیانت پر اور صداقت پر تھی۔اس لئے کہ پہلی دفعہ انسان نے ہزاروں میل دور سے مال منگوا نا شروع کیا۔اور اس کے لئے اپنا اعتبار جمانا ضروری ہو گیا۔انہیں یہ معلوم تھا کہ اس میں صداقت اور دیانت سے کام لینا ضروری ہے۔اور جھوٹ نہیں بولنا۔صداقت چھوڑ کر ہم دنیا کی تجارت پر قبضہ نہیں کر سکتے۔یہ دراصل اسلام سے اپنایا ہوا اصول ہے۔معاشرے کی اصلاح اور ترقی کے لئے بنیادی اصول یہ ایک بنیادی تعلیم اور اصول ہے جو اسلام نے معاشرہ کی اصلاح اور ترقی کے لئے دیا ہے۔اسلام نے اس بات پر بڑاز وردیا ہے کہ دیانت اور صداقت کو بھی نہیں چھوڑنا۔یہاں سے ایک شخص مثلا انگلستان کو دس بیس لاکھ روپے کے سامان کا آرڈردے دیتا تھا۔حالانکہ نہ اسے ان کے حالات کا پتہ اور نہ ان کے طریق کا پتہ ہوتا تھا۔لیکن ایک چیز کا پتہ تھا کہ یہ ملک تجارت میں غلط بیانی نہیں کرتے۔اس حد تک صداقت اور امانت کا حال تھا کہ آپ بیتی کی میں ایک مثال دے دیتا ہوں۔بڑی دیر کی بات ہے غالباً ، ۵ یا ۵۱ء کی۔ہمارا کالج اس وقت لاہور میں تھا اور میں کالج کا پرنسپل تھا۔ہمیں سائنس کے سامان کی ضرورت تھی۔انگلستان کی ایک فرم کے ساتھ ہم نے خط و کتابت کی اور ان کو سامان بھجوانے کا آرڈر دیا۔جس وقت وہ سامان پہنچا تو اس میں دو آ ٹیٹم ITEMS ( جو چھوٹے چھوٹے تھے اپنے حجم کے لحاظ سے۔وہ ) موجود نہیں تھے۔چنانچہ میں نے انہیں یہ لکھا کہ اس طرح یہ یہ چیزیں نہیں ہیں۔ایک کا نام تو مجھے یاد ہے دوسرا ذ ہن سے نکل گیا۔آٹھ کے قریب سٹاپ واچر تھیں جو کہ ہماری لیبارٹریز میں کام آتی ہیں۔اور لیبارٹریز سے باہر بھی کام