مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 371 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 371

فرموده ۱۹۷۳ء 371 د و مشعل راه جلد دوم آ جاتی ہیں۔وہ موجود نہیں تھیں۔انہوں نے مجھے جواباً لکھا کہ پیکنگ کا جو سامان ہوتا ہے مثلاً باریک باریک کاغذوں کی کترنیں وغیرہ اگر آپ نے وہ ضائع نہیں کیا تو اس میں تلاش کریں۔چنانچہ اس وقت فزکس ڈیپارٹمنٹ اور ہمارے کسٹم والوں نے مجھے اس تجارتی فرم سے بہت شرمندہ کروایا۔وہاں بیٹھے کئی ہزار میل دور مجھے یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اپنا پیکنگ کا سامان دیکھو وہ چیز اس کے اندر ہوگی۔یعنی یہ بات اُن کے تصور میں بھی نہیں آسکتی کہ وہاں رہ گئی ہو۔اس سے اُن کی دیانت اور امانت کے ساتھ اُن کی اہلیت کا بھی مظاہرہ ہوتا ہے۔خیر میں نے اپنے فزکس کے شعبہ سے کہا یہ خط آ گیا ہے۔تلاش کرو۔جب انہوں نے تلاش کیا تو ان دو میں سے ایک چیز وہاں سے مل گئی چنانچہ میں ان کو خط لکھا کہ ایک چیز مل گئی ہے اور دوسری نہیں ملی۔تو انہوں نے مجھے یہ جواب دیا کہ کراچی کسٹم والوں سے پوچھو۔شاید وہاں رہ گئی ہو اور جب میں نے کراچی کسٹمر کولکھا تو انہوں نے آرام سے لکھ دیا کہ ہمیں بڑا افسوس ہے کہ متعلقہ چیز یہاں رہ گئی تھی۔انہوں نے چیزیں دیکھنے کے لئے بکس کھول نگر ساری چیزیں اندر نہ رکھیں۔ایک چیز بے احتیاطی سے باہر رہ گئی۔تجارت کے سنہری اصول پس دیانت اور صداقت اور امانت کی بنا پر ان اقوام نے دنیا کی تجارت پر قبضہ کیا اور وہ سارے بنیادی اصول جو تجارت کو فروغ دینے والے اور دنیا کے سامان اور دنیا وی دولت کو اکٹھا کرنے والے ہیں وہ دراصل اسلامی تعلیم سے ماخوذ ہیں۔مسلمان ان کو بھول گئے۔لیکن انہوں نے ان سنہری اصولوں کو اپنایا۔اور دنیا کی تجارت پر قبضہ کر لیا۔اس کے مقابلہ میں جب پاکستان بنا اس وقت یہاں کے بعض تجارتی اداروں کے متعلق پتہ لگا کہ سامان کا جو نمونہ بھیجتے ہیں وہ کچھ اور ہوتا ہے اور بعد میں جو مال سپلائی کرتے ہیں وہ کچھ اور ہوتا ہے۔بعض کے متعلق اس وقت اخباروں میں یہ بھی چھپا کہ روٹی کی گانٹھوں کو جب پریس کرتے تو درمیان میں ڈیڑھ ڈیڑھ دو دوسیر کی اینٹیں رکھ دیتے اور اس طور پر پریس کرتے کہ کسی کو پتہ ہی نہ لگتا کہ ان میں اینٹیں رکھی ہوئی ہیں۔چنانچہ اس طرح وزن پورا کر دیا جاتا اور اس کو باہر بھیج دیا جاتا لیکن ایک دفعہ تو ایسے تجارتی اداروں نے پانچ اینٹوں کی قیمت اصل قیمت سے کہیں زیادہ روئی کی قیمت کی صورت میں وصول کر لی۔یہ تو درست ہے لیکن بعد میں نہ صرف اپنے تجارتی ادارہ کو نقصان پہنچایا بلکہ اپنی قوم کی تجارت کو بھی نقصان پہنچایا۔اور آئندہ کے لئے تجارت کا دروازہ بند کر وا دیا۔غرض مسلمان اس چیز کو بھول گئے اور جو غیر اقوام تھیں انہوں نے قرآن کریم کے بتائے ہوئے ان اصولوں سے جو انسان کو عزت و شرف کے سامان بہم پہنچانے والے ہیں فائدہ اٹھایا اور دنیا میں ترقی کی۔بیسیوں ایسی مثالیں ہیں جن سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ دنیا میں بھی دنیاوی معیار کے مطابق شرف اور عزت کے سامان اگر کسی نے لینے ہوں تو اسے قرآن عظیم کی تعلیم کو اپنا نا پڑے گا۔